آسٹرازینکا کورونا ویکسین محفوظ قرار، یورپین میڈیسن ایجنسی

آسٹرازینکا کورونا ویکسین محفوظ قرار، یورپین میڈیسن ایجنسی
Stay tunned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی 42: یورپین میڈیسن ایجنسی نے ابتدائی طورپرآسٹرازینکا کی کورونا ویکسین کو محفوظ قرار دیدیا۔

تفصیلات کے مطابق   یورپین میڈیسن ایجنسی نے ابتدائی طورپرآسٹرازینکا کی کورونا ویکسین کو محفوظ قرار دیدیا۔ یورپین میڈیسن ایجنسی کا کہنا ہے کہ  کسی قسم کے شواہد نہیں کہ  جسم میں ویکسین سے خون  کی گلٹیاں بنیں ، خدشات سے زیادہ ویکسین کے فوائد ہیں،خون کی گلٹیاں بننا نایاب ہے۔

  یورپین میڈیسن ایجنسی نے مزید کہا کہ  تحقیقات جاری ہیں،جمعرات کو اجلاس کے بعد فوری عوام کو بتایاجائےگا، جمعرات کو ہی  ماہرین کسی  نتیجے پر پہنچ سکیں گے۔

  عالمی ادارہ صحت نے بھی  ویکسی نیشن جاری رکھنے کی اپیل کی ہے۔ عالمی ادارہ صحت نے کہا ہے کہ  آکسفورڈ کی بنائی گئی کورونا ویکسین آسٹرازینکا کے استعمال کو  نہ روکیں۔ ویکسین کے استعمال سے خون میں پھٹکیاں بننے کے کوئی ثبوت نہیں ہے  لہذا   ویکسین کا استعمال جاری رکھنا چاہئے۔

 ناروے میں آسٹرا زینیکا کےاستعمال پرخون کی پھٹکیاں بننے کے واقعات کے بعد آئرلینڈ نے ویکسین کا استعمال روک دیا تھا، ڈنمارک، آئس لینڈ اور اٹلی، بلغاریہ ، تھائی لینڈ   بھی ویکسین کا استعمال عارضی طور پر روک چکے ہیں۔

یورپ میں ویکسین لگوانے کے بعد خون کی پھٹکیاں بننے کے بہت سے واقعات پیش آرہے ہیں۔تاہم  ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ عام طور پر عام لوگوں میں خون کی پھٹکیاں بننے کے  واقعات کی تعداد زیادہ نہیں ہیں۔ یورپی یونین اور برطانیہ میں لگ بھگ 17 ملین افراد آسٹرا زینیکا ویکسین کی ایک خوراک  لے چکے ہیں ، پچھلے ہفتے تک خون کی پھٹکیاں بننے کے 40 سے بھی کم کیسز  کی اطلاعات ہیں ۔ 

دوسری جانب  برطانیہ ویکیسن کو محفوظ اور مؤثر قرار دے چکا ہے اور آسٹرازینیکا کے ایک ترجمان نے کہا کہ کلینیکل ٹرائلز اور محفوظ ہونے کے ڈیٹا میں اس طرح کے اثر کا کوئی عندیہ سامنے نہیں آیا تھا۔ آسٹرازینیکا ویکسین استعمال کرنے والے آسٹریلیا اور کینیڈا سمیت کئی ممالک نے کسی بھی قسم کے ری ایکشن کی تردید کرتے ہوئے ویکسین کے نتائج کو بہترین قرار دیا ہے۔

واضح رہے کہ  13 مارچ کو  آئرلینڈ نے  بھی ناروے میں ایک  فرد کی ہلاکت  اور 3 افراد کے ہسپتال پہنچنے کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے ویکسینیشن روکنے کا اعلان کیا تھا ۔ ناروے کی میڈیسینز ایجنسی نے اپنے بیان میں کہا  تھا کہ 50 سال سے کم عمر 4 افراد کو یہ ویکسین استعمال کرائی گئی اور ان میں بلڈ پلیٹلیٹس کی تعداد کم ہوگئی۔

خیال رہے کہ خون کی پھٹکیاں بننے کے واقعات 30 لاکھ میں سے 22 افراد میں سامنے آئے تھے۔