کورونا کی بدولت دنیا کے 10 امیرترین اشخاص کی دولت دگنی ہوگئی، آکسفام

piles of us dollars of 10 richest men
کیپشن: piles of us dollars
سورس: google
Stay tunned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

 ویب ڈیسک :  عوام پر اقتصادی تشدد،  کورونا وبا کے دوران دنیا کے دس امیرترین افراد کی دولت میں دگنا اضافہ ہوگیا۔ آکسفام کی رپورٹ

 دنیا کے 10 امیر ترین  اشخاص میں ٹیسلا کے ایلون مسک، ایمیزون کے جیف بیزوس، گوگل کے بانی لیری پیج اور سرگی برن، فیس بک کے مارک زکربرگ، مائیکروسافٹ کے سابق سی ای او بل گیٹز اور سٹیو بالمر، اوریکل کے سابق سی ای او لیری ایلیسن، امریکی سرمایہ کار وارن بفیٹ اور فرانسیسی گروپ ایل وی ایم ایچ کے برنارڈ آرنالٹ شامل ہیں۔

خیراتی ادارے آکسفام کی ایک رپورٹ کے مطابق ان 10 افراد کی دولت سات سو ارب ڈالر سے بڑھ کر ڈیڑھ ٹریلین ڈالر ہوگئی تھی۔ یعنی اوسطاً ان کی دولت میں روزانہ کے اعتبار سے 1.3 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا۔ تاہم یہ دولت کے ڈھیر انسانی لاشوں سے کمائے گئے ۔

آکسفیم نے اپنی رپورٹ میں اس عدم مساوات کو ’اقتصادی تشدد‘ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اس کہ وجہ سے روزانہ 21 ہزار افراد کی ہلاکت ہورہی ہے کیونکہ انہیں طبی سہولیات تک رسائی حاصل نہیں اور انہیں بھوک، ماحولیاتی تبدیلیوں اور جنسی تشدد کا سامنا ہے۔  کورونا کی وجہ سے 16 کروڑ افراد غربت کی طرف دھکیل دیے گئے ہیں اور اس کا اثر خواتین پر اور مغرب میں غیر سفید فام نسلی اقلیتوں پر پڑا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ان ارب پتی افراد کی دولت میں گذشتہ 14 برسوں کے دوران اتنا اضافہ نہیں ہوا جتنا کورونا وائرس کی وبا کے دوران ہوا ہے۔یہ ایک ایسے وقت ہوا جب عالمی معیشت 1929 کے وال سٹریٹ کریش کے بعد کے سب سے بڑے مالی بحران سے دوچار تھی۔

آکسفیم نے ٹیکس اصلاحات کے لیے  درخواست  کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ دنیا بھر میں ویکسین بنانے کے عمل کو فنڈ کیا جائے اور طبی سہولیات، ماحولیاتی تبدیلیوں کے منفی اثرات اور جنسی تشدد کو روکنے میں مدد کی جائے تاکہ لوگوں کی جان بچائی جا سکے۔