علماءنے زیادتی کے مجرموں کو نامرد بنانے کی تجویز مسترد کردی

علماءنے زیادتی کے مجرموں کو نامرد بنانے کی تجویز مسترد کردی

مال روڈ (شاہد سپرا) سانحہ موٹر وے کے بعد وفاقی حکومت نے زیادتی کے مجرموں کو سزائیں دینے کے قانون بنانے کا فیصلہ کر لیا۔علماء نے  مجوزہ سزاؤں کومستردکردیا۔ 

موٹر وے پر ہونے والے افسوسناک واقعہ کے بعد حکومت نے زیادتی کرنے والے ملزمان کو سخت سے سخت سزائیں دینے کا فیصلہ کیا ہے، وزیراعظم عمران خان نے جنسی زیادتی کے مجرموں کو نامرد بنانے کے لیے قانون لانے کی منظوری دیدی، وزیراعظم کی منظوری کے بعدوفاقی وزیر آبی وسائل فیصل واوڈا نے بل کے ڈرافٹ پر کام شروع کردیا ہے، بل مکمل ہونے کے بعد وہ اسے قومی اسمبلی میں پیش کریں گے۔

مہتمم اعلیٰ جامعہ نعیمیہ ڈاکٹر راغب حسین نعیمی نے قانون کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں شرعی سزائیں موجود ہیں، ایسی کوئی سزا قابل قبول نہیں جو قرآن و حدیث میں نہ ہو۔

بادشاہی مسجد کے خطیب مولانا عبدالخبیر آزاد نے کہا ہے کہ اسلام میں خواتین سے زیادتی کرنے والوں کو سخت سزا دینے کا کہا گیا ہے، اس لئے سانحہ موٹر وے کے ملزمان کو قانون کے کٹہرے میں لاکر سخت سے سخت سزا دی جائے۔

علماء کرام کے مطابق شریعت میں زیادتی کے مرتکب شادی شدہ افراد کو عوام کے سامنے سنگسار جبکہ غیر شادی افراد کو100 کوڑے مارنے کی سزا سنائی گئی ہے۔

واضح رہےکہ 9 نومبر کی رات لاہور کے علاقے گجر پورہ میں موٹر وے پر خاتون کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انتہائی افسوسناک واقعہ پیش آیا  تھا، دو افراد نے موٹر وے پہ ایک گاڑی کا شیشہ توڑ کر خاتون اور ان کے بچوں کو باہر نکالا جس کے بعد انہیں قریبی جھاڑیوں میں لے جا کر خاتون کو بچوں کے سامنے مبینہ طور پر زیادتی کا نشانہ بنایا۔