عوام کو بڑا دھچکا؛ پٹرولیم مصنوعات 34 روپے مہنگی

عمر اسلم:حکومت نے ساڑھے 3 ماہ میں 7 بار پٹرولیم مصنوعات کی قیمت بڑھائی،15جون کے بعد اب تک پٹرولیم مصنوعات 34 روپے 30 پیسے مہنگی ہوئیں،پٹرول کی قیمت میں 29 روپے 23پیسے اضافہ ہوا، مٹی کا تیل 30 روپے 26 پیسے مہنگا ہوا،پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے پر شہری سڑکوں پر نکل آئے۔

مہنگائی کے پے در پے جھٹکوں نے عوام کو کہیں کا نہ چھوڑا، پیٹرول کی قیمت تاریخ کی بلند ترین سطح پرپہنچ گئی،پیٹرول ساڑھے 10 روپے اضافے کے بعد 137 روپے 79 پیسے لیٹر ہو گیا، ڈیزل کی قیمت 12 روپے 44 پیسے بڑھ کر 134 روپے 48 پیسے تک پہنچ گئی، مٹی کا تیل بھی 10 روپے 95 پیسے مہنگا ہو گیا۔

عوام دہائیاں دیتے رہ گئے اور حکومت نے ایک بار پھر پیٹرولیم مصنوعات مہنگی کر دیں، تیل کی قیمتیں بڑھنے پر غریب چلا اٹھے،شہریوں کا کہنا ہے کہ حکمران فیصلے کرتے وقت عوام کی مشکلات کو بھی مدنظر رکھیں اور کبھی ریلیف دینے کا بھی سوچ لیا کریں۔

علاوہ ازیں شہرکے مختلف علاقوں میں پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ اور بڑھتی مہنگائی کےخلاف عوام سراپا احتجاج ہیں،احتجاج کے باعث ٹریفک کا نظام درہم برہم رہا جبکہ گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں،بینرز اٹھائے مظاہرین نےحکومت مخالف نعرے بازی کی،پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچی تاکہ ٹریفک کو متبادل راستوں سے گزارا جائے۔

 دوسری جانب رائیونڈ اڈہ پلاٹ اور پریس کلب کے باہر انوکھے احتجاج کا سلسلہ جاری رہا، شہری گدھوں کو ساتھ لے آئے اور کہا کہ اب ڈونکی راجہ کی سواری چلے گی،بعض شہریوں نے گاڑیاں کھڑی کر کے نمبر پلیٹس احتجاجاً جسم پر لگا لیں،جماعت اسلامی بھی گدھا لیکر پریس کلب پہنچ گئی، گدھے کے اوپر تبدیلی سرکار کا پوسٹر لگایا اور خوب نعرے بازی کی۔

پیپلز پارٹی کے جیالوں نے بھی سبزیوں کا ہار بنا کر گلے میں ڈال لیا اور نعرے لگا کر دل کا بوجھ ہلکا کیا،بقول ان کے اب وہ پیٹرول خریدنے کی سکت نہیں رکھتے۔

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ نامنظور کی قرار داد مسلم لیگ ن کی رہنما حنا پرویز بٹ نے پنجاب اسمبلی میں د جمع کرادی، جس میں لکھا کہ پٹرول کی قیمت میں اضافہ ظلم ہے،حکومت نے ہر 15دن بعد عوام پر پٹرول بم گرانے کا وطیرہ بنالیا، قیمتوں میں اضافہ فوری واپس لیا جائے نہیں تو مہنگائی کا نیا طوفان آئے گا۔