جیلوں میں اصلاحات کے دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے

جیلوں میں اصلاحات کے دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے

(علی ساہی) جیلوں میں اصلاحات کےد عوے ایک طرف جبکہ بنیادی ضروریات کے لیے بھی فنڈز کے اجرامیں تاخیر، قیدیوں کے کھانے کے لیے گزشتہ سال 46 کروڑ روپے ٹھیکیداروں کو جاری نہ کیے جاسکے، رواں سال محکمہ جیل نے 2 ارب کے فنڈز مانگ لیے۔

جیلوں میں 43 ہزار سے زائد قیدی موجود ہیں جن کو روزانہ 3 اوقات میں کھانا مہیا کیا جاتا ہے جس کے لئے روزانہ کروڑوں روپے اخراجات آتے ہیں لیکن موجودہ حکومت بروقت فنڈز جاری نہ کرنے کی وجہ سے مسائل پیدا ہوسکتے ہیں کیونکہ قیدیوں کے کھانے و پینے کے لئے گزشتہ سال 46 کروڑ روپے تاحال ٹھیکیداروں کو جاری نہ کئے جاسکے۔

جیل حکام کے مطابق رواں سال کے لئے محکمہ جیل نے  2ارب کے فنڈز مانگ لئے ہیں، قیدیوں کے کھانے و پینے کی مد میں حکومت نے 1 ماہ قبل گذشتہ مالی سال کے ایک ارب سے زائد واجبات میں سے60  کروڑ روپے کے قریب فنڈز جاری کیے تھے جبکہ بروقت ادائیگیاں نہ ہونے سے ٹھیکیداران تحفظات سے جیل حکام کو آگاہ کرچکے ہیں۔

محکمہ جیل نے ٹھیکیداری سسٹم ختم کر کے یوٹیلٹی سٹورز سے اشیا خوردونوش کے لئے اجلاس کیا تھا لیکن یوٹیلٹی سٹورانتظامیہ نے اتنے بڑے پیمانے پر فنڈز کی اور اشیا خوردونوش کی فراہمی پر معذرت کرلی تھی۔

وزیراعلیٰ کی جانب سے متعدد جیلوں کے دورے کر کے اصلاحات کا حکم دیا گیا ہے، بنیادی ضروریات فراہم نہ کرنے پر اصلاحات تو دور موجودہ نظام چلنا بھی مشکل ہے۔

دوسری جانب محکمہ جیل میں قیدیوں اور ملاقاتیوں کیلئے احسن اقدام کیا گیا ہے، قیدیوں کی پرانی طرز سے ملاقات کا طریقہ ختم کر کے ملاقاتیوں کیلئے انٹر کام کی سہولت مہیا کر دی گئی ہے اور اب قیدی اور ملاقاتی آمنے سامنے بیٹھ کر فون پر بات کریں گے۔