توہین عدالت درخواستوں میں اضافہ، احکامات نظر انداز

توہین عدالت درخواستوں میں اضافہ، احکامات نظر انداز

ملک اشرف:لاہور ہائیکورٹ میں سرکاری افسران کے خلاف توہین عدالت کی درخواستوں میں مسلسل اضافہ ہورہا ہےجبکہ عدالتی احکامات کو نظر انداز کرنے والوں میں بڑے چھوٹے سب سرکاری افسران شامل ہیں۔

تفصیلات کے مطابق لاہور ہائی کورٹ میں توہین عدالت کی درخواستوں کی تعداد 3700 سے تجاوز کر گئی ۔ ہائیکورٹ میں چیف سیکرٹری ، آئی جی سمیت دیگر افسران کے خلاف توہین عدالتیں کی درخواستیں زیر سماعت ہیں ۔ چیف جسٹس سمیت ہائیکورٹ کے پانچ ججز کی عدالتوں میں توہین عدالت کی درخواستیں زیر سماعت ہیں ۔بیوروکریٹس کی عدالتوں میں پیشیاں، غیر مشروط معافیاں ،پھر بھی عدالتی نافرمانیوں کا سلسلہ جاری ہے۔

خیال رہے توہینِ عدالت ، تقریر یا کسی عمل سے کوئی ایسا اقدام کرنا جس سے عدالت کے وقار کو صدمہ پہنچے یا اس کے کسی حکم کی تعمیل نہ کی جائے۔ کسی زیر سماعت مقدمہ پر اظہار خیال کرنا جس سے اس کے فیصلے پر اثرانداز ہونے کا اندیشہ ہو، وہ بھی توہین عدالت ہوگا۔ توہین عدالت کی سماعت براہ راست عدالت عالیہ میں ہوتی ہے اور سرسری سماعت کے بعد عام طور پر مقدمہ کا فیصلہ سنا دیا جاتا ہے۔ عدالت ملزم کو سزا قید و جرمانہ دے سکتی ہے۔ معافی مانگنے پر عدالت ملزم کو معاف کرکے بری بھی کر سکتی ہے۔ لیکن عالت مجاز ہے کہ ملزم کی معافی کو مسترد کرتے ہوئے اس کو سزا دے دے۔

چیف سیکرٹری جواد رفیق ملک ،سمیت دیگرافسران توہین عدالت کی درخواستوں میں کئی مرتبہ عدالت پیش ہوچکے ہیں۔عدالتی فیصلوں پر بروقت عمل درآمد نہ ہونے سے وکلا اور سائلین پریشان ہیں۔سائلین عدالتی فیصلوں پر عملدرآمد کروانے کے لیے توہین عدالت کی درخواستیں دائر کرنے پر مجبور ہیں۔

یاد رہے کہ اراضی پر قبضےکامعاملہ ، لاہور ہائیکورٹ میں اندراج مقدمہ کے لیےدائر درخواست پرسماعت،عدالتی حکم پرآئی جی پنجاب انعام غنی سمیت دیگر پولیس افسران عدالت پیش،عدالت نے آئی جی پنجاب سے درخواست گزار بارے کارروائی کےحوالےسے23 نومبرکو رپورٹ طلب کرلی ۔