کشمیری شاعر کی بازیابی کا کیس؛ عدالت نے سیکرٹری دفاع کو رپورٹ کے ساتھ طلب کر لیا

Ahmad Farhad, Kashmiri poet, Justice Mohsin Akhtar Kiani, Islamabad High Court, Sector Commander ISI, Sec. Defence, Secretary Interior, Prime Minister Shahbaz, City42
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

 احتشام کیانی: اسلام آباد ہائیکورٹ  میں آج کشمیری شاعر احمد فرہاد کی بازیابی کی درخواست پر سماعت جسٹس محسن اختر کیانی نے کی۔

جسٹس محسن اختر کیانی نے سماعت کا آغاز کرتے ہوئے دریافت کیا کہ کیا صورتحال ہے؟ 

 اسلام آباد پولیس کے وکیل نے بتایا کہ ہم نے سپیشل انوسٹی گیشن ٹیم بنائی ہے۔

 ایس ایس پی آپریشنز  نے بتایا کہ میں نے احمد فرہاد کی اہلیہ سے خود بات کی ہے۔ ایس ایس پی نے بتایا کہ احمد فرہاد کو گھر کے اندر سے نہیں بلکہ باہر سے اٹھایا گیا۔  جس گاڑی سے متعلق بتایا گیا ہم نے اس متعلق بھی تفتیش کی ہے۔

جسٹس محسن اختر کیانی نے استفسار کیا کہ کیا  گاڑیاں "ڈالے" والی ہی ہیں؟  

ایس ایس پی آپریشنز جمیل ظفر نے عدالت کو بتایا کہ احمد فرہاد کی اہلیہ نے ڈبل کیبن گاڑی کا بتایا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ ہم نے احمد فرہاد کے موبائل فون کی کالز کا ریکارڈ بھی لیا ہے۔ جیو فینسگ کر لی ہے،  وہ تھوڑا وقت لیتی ہے۔ موقع پر موجود لوگوں سے بھی ہم نے تفتیش کی ہے۔

احمد فرہاد کی وکیل ایمان مزاری نے کہا کہ عدالت پوچھے کہ کیا دیگر ایجنسیز سے بھی آفیشلی پوچھا گیا ہے؟

ایس ایس پی آپریشنز  نے جواب دیا کہ ہم نے پوچھا تو ہے لیکن آفیشلی خطوط نہیں لکھے گئے۔ 

 جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیئے، " کیا کبھی مثبت جواب بھی آیا ہے کہ بندہ ہم نے اٹھایا ہےـ"

 ایس ایس پی آپریشنز جمیل ظفر  جواب دیا، نہیں، ایسا کبھی نہیں ہوا۔

 جسٹس محسن کیانی نے ریمارکس دیئے کہ جب وہ اٹھا کر لے جاتے ہیں تو سب سے پہلے پاس ورڈ لیتے ہیں اور سم بند کر دیتے ہیں۔ پھر اب وقت آ گیا ہے کہ سیکرٹری دفاع اور آئی ایس آئی کے سیکٹر کمانڈر کو بلا لیں۔ میں نے کہا تھا کہ جہاں پولیس کی تفتیش رک جائے گی پھر انہیں بلائیں گے۔ یا تو آپ کہیں کہ راء کے لوگ اٹھا کر لے گئے یا تاوان کیلئے اغواء کیا گیا ہے۔

پولیس کے وکیل نے کہا کہ   ہمارے لیے آسان ہے کہ مسنگ پرسن میں ڈال کر اپنی جان چھڑا لیں۔

 جسٹس محسن اختر کیانی  نے سوال کیا کہ درخواست گزار کا الزام پولیس پر کیوں نہیں ہے؟ یہ زبردست بات ہے کہ پولیس پر تو اعتماد ہے ان پر الزام نہیں لگایا جاتا۔ پولیس سے گلہ ہے کہ ان کی انوسٹی گیشن ایک حد سے آگے جاتی ہی نہیں، تو نامعلوم افراد کی یہ صلاحیت تو ہے نا کہ چوبیس گھنٹے میں لوگ آ کر کہتے ہیں ہم شمالی علاقوں میں گئے تھے۔

جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیئے کہ لاپتہ افراد پر بات کرنے کی وجہ سے وہ مسنگ ہے۔ باعث شرم بات ہے کہ پورے پاکستان کے 25 کروڑ عوام کو پتہ ہے کہ ہو کیا رہا ہے۔ جو اٹھایا جاتا ہے جب مہینوں بعد آتا ہے تو فیملی والے کہتے ہیں اور کچھ نہ کہنا۔  یہ سسٹم ایسا بنا ہوا ہے کہ سارے لوگ اغواء کاروں کا ہی تحفظ کرتے ہیں۔

 جسٹس محسن کیانی نے کہا کہ  میں سیکرٹری دفاع اور سیکٹر کمانڈر کو ذاتی حیثیت میں طلب کر رہا ہوں۔ جن پر الزام ہے میں ان کو بلا رہا ہوں۔ اگر پھر بھی کام نہیں ہو گا تو پھر میں وزیراعظم کو بھی میں بلاؤں گا۔ کیا قانون سے ماورا ہیں؟ میرے سمیت سب لوگ جوابدہ ہیں۔

 جسٹس محسن کیانی نے مزید کہا کہ وردیوں اور بغیر وردیوں والے اغواء کیے گئے بندے کو ڈھونڈ کر لائیں گے، اگر نہیں لائیں گے تو ان کو اپنے دفاتر سے نکال دیا جائے گا۔  ایک وی لاگ میں بات بری لگ جائے تو بندہ اٹھا کر لے جاتے ہیں۔ دونوں کام نہیں ہو سکتے کہ غلط کام بھی کریں اور امیج بلڈنگ بھی کریں۔  اگر سیکرٹری دفاع نے کچھ نہ کیا تو میں سیکرٹری داخلہ کو بلاؤں گا۔ پھر وزیراعظم کو طلب کروں گا، ابھی سے بتا رہا ہوں۔

 جسٹس محسن اختر کیانی نے حکم دیا کہ سیکرٹری دفاع عدالت میں رپورٹ جمع کروائیں، تمام خفیہ اداروں کے سیکٹر کمانڈرز سے معلومات لے کر رپورٹ جمع کروائیں۔ وزارتِ دفاع کا افسر آئندہ سماعت پر عدالت میں پیش ہو۔

عدالت نے کیس کی سماعت پیر تک ملتوی کر دی