شین وارن کی موت: 52 سال کی عمر دل کے لیے کیوں اہم ہے؟

شین وارن کی موت: 52 سال کی عمر دل کے لیے کیوں اہم ہے؟
سورس: Getty Images/MSN
شین وارن کی موت: 52 سال کی عمر دل کے لیے کیوں اہم ہے؟
سورس: msn
شین وارن کی موت: 52 سال کی عمر دل کے لیے کیوں اہم ہے؟
شین وارن کی موت: 52 سال کی عمر دل کے لیے کیوں اہم ہے؟
Stay tunned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک: آسٹریلیا میں ایک ہفتے کے دوران دو اہم شخصیات دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گئیں۔ دونوں کی عمریں 52 سال تھیں۔ دنیا سکتے میں چلی گئی۔

ایم ایس این کی ایک رپورٹ کے مطابق کیا یہ محض اتفاق ہے کہ کرکٹ لیجنڈ شین وارن اور لیبر سینیٹر کمبرلے کچنگ ایک ہی عمر میں دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کرگئے۔ شین وارن اور کمبلے کی طرح  52 سالہ آسٹریلوی فٹ بال لیگ کے کھلاڑی ڈین والیس کو بھی دل کا مسئلہ درپیش آیا ہے۔ البتہ ان کی حالت قدرے بہتر ہے۔ 

50 کی عمر خطرناک کیوں ہے؟ 

کیا یہ معمول کی بات ہے کہ اس عمر میں لوگ اچانک اور غیر متوقع طور پر اس بیماری میں مبتلا ہو جاتے ہیں؟ آسٹریلیا کے ادراہ شماریات کے مطابق آسٹریلیا میں دل کے امراض سے اموات کی شرح سب سے زیادہ ہے حالانکہ اس بیماری کی روک تھام ممکن ہے۔ 

ہارٹ اٹیک کی وجوہات کیا ہوسکتی ہیں؟

امریکی ادارے میو کلینک کے مطابق دل کے دورے کا ایک سبب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ کولیسٹرول کی کثرت کی وجہ سے آپ کی شریانیں بلاک ہو گئی ہیں اور خون کی روانی متاثر ہو رہی ہے یا پھر خون کی گردش بالکل رک گئی ہے۔ خون کا بہاؤ  میں رکاوٹ کی وجہ سے دل کو  خون اور آکسیجن کی فراہمی رک جاتی ہے۔ دل کے دورے کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ کورنری شریان میں یکدم کھچاوٹ پیدا ہو نے سے خون کی فراہمی رک جاتی ہے۔ 

کورونا کا کردار؟

حال ہی میں کی جانے والی ایک تحقیق کے مطابق 72 فی صد کورونا کے مریضوں کو  اچانک دل بند ہوجانے خطرات کا سامنا رہا جبکہ 62 فی صد کو  کورونا لاحق ہونے کے بعد دل کا دورہ پڑنے کے کیسسز سامنے آئے۔ 

اعدادوشمار کے مطابق 45 سال کی عمر کے مرد اور 55 سال یا زیادہ عمر کی عورتوں کو اس سے کم عمر کے افراد کی نسبت دل کا دورہ پڑنے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔ شین وارن بھی اسی عمر کے گروپ میں تھے جب انہیں تھائی لینڈ میں دل کا دورہ پڑا ور وہ انتقال کرگئے۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ شین وارن دو مرتبہ کورونا کا شکار ہو چکے تھے۔ ایک مرتبہ انہیں کورونا ہوا جب وہ برطانیہ تھے اور دوسری مرتبہ ان کی موت چند ہفتے قبل۔ اب یہ ایک سوال ہے کہ کیا کورونا کی وجہ انہیں دل کے دورے کے امکانات بڑھ گئے تھے یا پھر زیادہ سیگریٹ، خوراک اور ڈائیٹ پلان ان کے دل کے دورے کا سبب بنے۔  

ایک انکشاف یہ بھی ہوا تھا کہ شین وارن اپنی موت سے قبل کافی روز سے صرف مائع غذا لے رہے تھے جس سے دل کو  سنگین خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ 

ادھر سینیٹر کمبرلے کچنگ کو اس وقت دل کا دورہ پڑا جب وہ گاڑی چلا رہی تھیں۔ ان کی عمر بھی 52 سال تھی۔ انہیں تکلیف ہوئی تو انہوں نے گاڑی سڑک کے کنارے  لگا لی اور پھر ان کے خاوند نے ابتدائی طبی امداد کے لیے ایمبولینس بھیجی مگر وہ جانبر نہ ہوسکیں۔ 

کچنگ نے بھی حال ہی میں کافی وزن کم کیا تھا اور موت کے وقت وہ  اگلے الیکشن میں سلیکشن کے معاملے پرکافی کھچاؤ کا شکار تھیں۔ ہارورڈ یونیورسٹی کی ایک تحقیق کے مطابق تمباکو نوشی اور بلڈ پریشر کی طرح ذہنی دباؤ  بھی دل کے دورے میں بڑا اہم کردار ادا کرتا ہے۔ 

ماہر قلبی امراض ڈاکٹر آرنگریٹا ہنٹر کہتی ہیں کورونا کے دوران ناک بہنا اور کھانسی پھیپھڑوں کے ساتھ ساتھ دل سمیت جسم کے  دیگر حصوں کو بری طرح متاثر کرتی ہے۔ 

ڈاکٹر ہنٹر کا کہنا ہے کہ ایسی بیماریاں صحت پر بہت برے اثرات مرتب کرتی ہیں اور مکمل صحت یابی کے لیے ایک لمبا عرصہ درکار ہوتا ہے۔ 

ادوایات کے دل پر اثرات؟

سینیٹر کچنگ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ اپنے گلے کے غدود کا علاج کروا رہی تھیں جس کی وجہ سے انہیں دل کے تکلیف جیسے مسائل کا سامنا تھا۔ وہ پچھلے ایک سال سے ادویات استعمال کررہی تھیں۔ ڈاکٹر ہنٹر کہتی ہیں بلاشبہ ادویات دل پر اثرات چھوڑتی ہیں اور وزن میں کمی بھی دل کے دورے کا سبب بن سکتی ہے۔  

مردوں میں دل کے دورے کے امکانات کیوں زیادہ ہیں؟

ڈاکٹر ہنٹر کہتی ہیں کہ اس بارے میں حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جاسکتا مگر اس کی کئی وجوہات ہوتی ہیں۔ تقریبا 50 فی صد مردوں میں 50 کی عمر میں جاکر ان شریانوں کا سکڑنے کا عمل تیز ہو جاتا ہے اور پلاک بڑھنے لگتا ہے اور بعض میں 60 کی عمر میں پہنچ کر ان کی کورونری شریانیں متاثر ہونا شروع ہو جاتی ہیں ۔ شاید ان میں ہارمونز کا عمل دخل زیادہ ہے۔ 

خاندان کا اثر؟

ڈاکٹر ہنٹر کا ماننا ہے کہ ڈاکٹر سب سے پہلے خاندان کی ہسٹری دیکھتا ہے اور اس کا عمل دخل بھی ہوتا ہے۔