ریور راوی منصوبے کے متاثرین پر مقدمہ

ریور راوی منصوبے کے متاثرین پر مقدمہ
FIR against Affectees

(راؤدلشاد)ریور راوی منصوبے کے متاثرین کو اتھارٹی کے افسران کو حکم امتناعی کے دوران ورکنگ اور سروے کرنے سے روکنا مہنگا پڑھ گیا،متاثرین ریور راوی کے خلاف تھانہ فیروز والہ میں مقدمہ درج کرادیاگیا۔

تفصیلات کے مطابق کالا خطائی روڑ ایگزیکٹو ڈائریکٹر ریورراوی اتھارٹی منصور احمد کی مدعیت میں مقدمہ درج کرایا گیا، ایف آئی آر کے متن کے مطابق چودھری سجاد وڑائچ، باؤ بھٹی سمیت 10 نامعلوم افراد کو مقدمہ میں نامزد کردیاگیا،سجاد وڑائچ اور باؤ بھٹی نے کار سرکار میں مداخلت کی کالا خطائی روڑ پر ٹریفک بلاک کرائی گئی۔

اتھارٹی کے آفیشلز کو اسٹیٹ لینڈ کا سروے کرنے سے روکا گیا،ریورراوی اتھارٹی کے متاثرین کے خلاف دفعہ 506بی، دفعہ 382، دفعہ 342، 353، 186، 147 اور 148دفعات لگائی گئیں، گزشتہ روز ریور راوی منصوبے کے متاثرین نے عدالتی حکم امتناعی کے باعث سروے کرنے سے روکا تھا.

واضح رہے کہ ریور راوی پراجیکٹ کے دو ہزار ایکڑ پر محیط پہلے فیز کی بڈنگ مکمل کرلی گئی، سب سے زیادہ بڈنگ عارف حبیب گروپ کی تیرہ کمپنیوں کے کنسورشیم "جاویدا"نے دی، منصوبے کے لئے بڈ دینے والے تین بڑے گروپس جاوداں، بحریہ ٹاؤن اور میٹراکون گروپ شامل تھے، تینوں کمپنیوں کو پری کوالیفکیشن کے سخت عمل سے گزارا گیا۔ روڈا کی جانب سے آج کمپنیوں کی ٹیکنیکل بڈ کھولی گئی جس میں جاوداں گروپ ٹیکینکل طور پر سب سے مضبوط نکلی۔

جاوداں گروپ کارپوریٹ سیکٹر کی تیرہ بڑی کمپنیز کا کنسورشیم ہے۔ جاوداں گروپ میں یونس گروپ، لکی سیمنٹ، صورتی گروپ اور لبرٹی گروپ شامل ہے۔ اسی طرح فاطمہ فرٹیلائزر گروپ، غنی گلاس اور یو ایس اپریل گروپ، سفائر گروپ، اورئینٹ گروپ شامل ہیں۔ جاوداں کنسورشیم کی پبلک سیکٹر میں مارکیٹ کیپ ویلیو ایک ہزار ارب روپے ہے۔