کون سی گاڑی کتنی سستی ہوئی؟

(شہزاد خان ابدالی)ٹیکسوں میں ریلیف سے 800 سی سی تک چھوٹی گاڑیاں 70 ہزار سے ایک لاکھ پانچ ہزار تک سستی ہو گئیں، تاہم یہ فائدہ صارفین کو بکنگ پر تین سے چار ماہ میں ملے گا، دوسری جانب کار ڈیلرز نے چھوٹی درآمدی گاڑیوں پر بھاری ٹیکس ختم کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق حکومت نے 850 سی سی گاڑیوں پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی ختم کردیااور سیلز ٹیکس 17 فیصد سے کم کر کے ساڑھے 12 فیصد کر دیا ہے، اس اقدام سے مقامی طور پر تیار چھوٹی گاڑیاں 70 ہزار سے ایک لاکھ 5 ہزار روپے تک سستی ہو گئی ہیں،تاہم اب ایسا بھی نہیں ہے کہ گھر سے گئے اور سستی گاڑی فوری مل گئی، کیونکہ ڈیلر حضرات حیلوں بہانوں اور تاخیری حربوں سے تین سے چار کا انتظار کرائیں گے۔

مزید پڑھئے: 1000سی سی سے چھوٹی گاڑیاں رکھنے والوں کیلئے اہم خبر

دوسری جانب کار ڈیلرز نے چھوٹی درآمدی گاڑیوں پر عائد بھاری ٹیکس ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ صارفین کو بہترین فیچرز کی حامل گاڑیاں مناسب قیمت پر مل سکیں،شہریوں کا کہنا ہے کہ حکومت نے چھوٹی گاڑیوں پر ٹیکسز کم کیے ہیں تو مینوفیکچررز اور ڈیلرز کو بھی گاڑیوں کی فوری سپلائی دینے کا پابند کیا جائے۔

واضح رہے کہ قبل ازیں  1000سی سی سے چھوٹی گاڑیوں کالائف ٹائم ٹوکن ٹیکس برقراررکھنےکافیصلہ کیاگیا،چھوٹی گاڑیوں پراگلے مالی سال کے بجٹ میں لائف ٹائم ٹوکن ٹیکس ختم نہیں ہوگا،حکومت نےلائف ٹائم ٹوکن ٹیکس ختم کرکے سالانہ وصولی کی سفارشات بھجوائی تھیں، جن کوریسورس موبائلزیشن کمیٹی نے منظور کیا تھا۔

ایکسائز نے اعدادوشماردکھا کرلائف ٹائم ٹوکن ٹیکس جاری رکھنے کی درخواست کی تھی اورآگاہ کیا تھا کہ ایکسائزسالانہ 1لاکھ سے زائدچھوٹی گاڑیاں رجسٹرڈکرکے1ارب 20کروڑ کےقریب ٹوکن ٹیکس وصول کرتا ہے،سالانہ وصولی کی صورت میں 70فیصدکمی کاسامنا ہوگااورسالانہ ٹیکس وصولی کی صورت میں بہت سارے شہری ٹیکس کی ادائیگی نہیں کرتے۔

یکمشت وصولی سے گورنمنٹ کوہررجسٹرڈ ہونیوالی گاڑی سے ٹیکس کی ادائیگی کویقینی بنایا جاتا ہے، محکمہ خزانہ نے سالانہ منظوری کی بجائےموجودہ سسٹم جاری رکھنے کی منظوری دے دی ہے۔