پولیس اور فلاحی ادارے شہرخموشاں کے عدم تعاون پر پریشان


عیشہ خان :شہر خموشاں نے لاوارث لاشوں کی تدفین روک دی۔ آٹھ ہزار میتوں کی تدفین کی جگہ پر ایک سال میں صرف ڈیڑھ سو کی تدفین کی جاسکی، جبکہ لاوارث لاشیں مردہ خانوں میں گلنے سڑنے لگیں۔

یہ بھی لازمی پڑھیں:نیوز بلیٹن 3بجے 14 نومبر2018  

اس خبر کو لازمی پڑھیں:گارڈن ٹاؤن: بجلی کی لٹکتی ہوئی تاریں شہریوں کیلئے وبال جان بن گئیں

گزشتہ حکومت نےلاوارث میتوں اورایسے افراد جو تدفین کا خرچہ نہیں اٹھا سکتے انکے لیے شہر خموشاں میں مفت انتظامات کیے۔ جبکہ پولیس سمیت دیگر فلاحی اداروں کا کہنا ہے کہ شہرخموشاں کی انتظامیہ لاشوں کی تدفین میں کوئی تعاون نہیں کرتی جسکی وجہ سے مشکلات درپیش ہیں۔

شہر خموشاں کے پاس تین ایمبولینسسزموجود ہونے کے باوجود لاوارث لاشوں کو لے جانے کیلئے ایمبولینس فراہم کی جاتی ہے نہ غسل کے پیسے۔ بلکہ پیسےانتظامیہ پولیس سے وصول کیے جاتے ہیں۔

لاوارث لاشوں کی تدفین نہ ہونے سے مردہ خانوں میں پڑی میتیں گلنے سڑنے لگی ہیں۔ شہر خموشاں میں آٹھ ہزار میتوں کی تدفین کی جگہ ہونے کے باوجود ایک سال میں ایک سو پچاس کی تدفین ہی کی جاسکی۔