پاکستان کرکٹ بورڈ کا نیا آئین منظرعام پر آگیا

پاکستان کرکٹ بورڈ کا نیا آئین منظرعام پر آگیا

( شہباز علی ) نئے آئین میں ادارے مکمل طور پر ختم جبکہ ریجنز اور ڈسٹرکٹ کرکٹ ایسوسی ایشنز کی جگہ صوبائی اور سٹی ایسوسی ایشنز لیں گی۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے نئے آئین کی کاپی منظرعام پر آگئی، پی سی بی کا نیا آئین 31 صفحات پر مشتمل ہے۔ نئے آئین میں ڈسٹرکٹ کرکٹ ایسوسی ایشن کی جگہ سٹی کرکٹ ایسوسی ایشنز جبکہ ریجنل کرکٹ ایسوسی ایشنز کی جگہ صوبائی کرکٹ ایسوسی یا صوبائی بورڈز لیں گے۔ نئے آئین میں سٹی کرکٹ ایسوسی ایشنز ایکٹیو کرکٹ کلبز پر مشتمل ہوگی، ایکٹیو کلبزکے صدور سٹی کرکٹ ایسوسی کے نمائندوں کا انتخاب کریں گے جبکہ کلب کی سطح پر تمام سرگرمیوں کو صوبائی ایسوسی ایشنز مانیٹر کیا کریں گی۔

سٹی کرکٹ ایسوسی ایشنز کے انتخابات میں من مانیوں کو روکنے کے لئے نئے آئین میں سٹی کرکٹ ایسوسی ایشنز کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ الیکشن سے ایک برس قبل ایکٹیو کلبز کی فہرست صوبائی ایسوسی ایشن کو فراہم کرنے کی پابند ہوں گی، نئے تجویز کردہ سٹی کرکٹ ایسوسی ایشنز کے علاقوں کا تعین بعد میں کیا جائے گا۔

آئین میں پاکستان کرکٹ میں پہلی مرتبہ سٹی اور صوبائی ایسوسی ایشنز کو اپنے فنڈز خود پیدا کرنے کی اجازت دی گئی ہے جبکہ سٹی کرکٹ ایسوسی ایشنز کے نمائندے صوبائی بورڈ یا ایسوسی ایشن کے نمائندوں کا انتخاب کریں گے۔ آئین میں تمام ایسوسی ایشنز سوسائٹی ایکٹ کے تحت خود کو رجسٹرڈ کروانے کی پابند ہوں گی۔

نئے آئین میں چئیرمین، چیف آپریٹنگ آفیسر، چیف ایگزیکٹوآفیسر، صوبائی ایسوسی ایشنز کے صدور، پاکستان بلائنڈ کرکٹ کونسل کے چئیرمین، پاکستان ڈیف اینڈ ڈم اور ویٹرنز کرکٹ کے صدور جنرل باڈی کا حصہ ہوں گے جبکہ 11 رکنی گورننگ بورڈ میں تین صوبائی ایسوسی ایشنز کے نمائندے، چار آزاد ڈائریکٹرز، دو پیٹرن کے نمائندے، چیف ایگزیکٹو یا سی ای او اور سیکرٹری آئی پی سی شامل ہوں گے۔ تین سالہ مدت کے لئے چئیرمین کا انتخاب گورننگ بورڈ کرے گا۔

قومی ٹیم کے کپتان، کوچ اور چیف سلیکٹر کی تعیناتی چئیرمین کی صوابدید ہوگی، وفاقی حکومت کی طرف سے نئے آئین کا نوٹیفکیشن جاری ہوتے ہی یہ آئین نافذ العمل ہوجائے گا۔