غیر معیاری کھانا دینے پر ہوٹل و ریسٹورنٹ کو 1 لاکھ جرمانہ ہوگا، نیا بل تیار

 غیر معیاری کھانا دینے پر ہوٹل و ریسٹورنٹ کو 1 لاکھ جرمانہ ہوگا، نیا بل تیار

(علی رامے) پنجاب میں ہوٹلز اینڈ ریسٹورنٹس کا ڈرافٹ بل 2020 تیار، محکمہ سیاحت کی جانب سے ترامیم کیے گئے بل میں نئی شقیں شامل، نئے ترمیمی بل میں ہوٹلز اور ریسٹورنٹ کی اب کڑی نگرانی اور بھاری جرمانے ہوں گے۔

پنجاب میں محکمہ سیاحت کو بھرپور اختیارات دیئے جارہے ہیں تاکہ سیاحت کو مکمل فروغ مل سکے، اس سلسلے میں پنجاب حکومت نے چند روز قبل پنجاب ریسٹورنٹ اینڈ ہوٹل کے ترمیمی بل کی منظوری دی ہے، اس ترمیمی بل میں پاکستان ہوٹلز اینڈ ریسٹورنٹ کو مد نظر رکھتے ہوئے کچھ نئی شقیں شامل کیں گئی ہیں۔

نئے بل کے مطابق محکمہ سیاحت کے آفیسرز ہوٹلز اور ریسٹورنٹ کی انسپکشن کرسکیں گے، اسسٹنٹ کنٹرولر کے پاس قوانین کی خلاف ورزی کرنیوالے ریسٹورنٹ کو سیل کرنے کا اختیار ہوگا، بغیر رجسٹریشن کے ہوٹل اور ریسٹورنٹ چلانے والے کیخلاف پانچ لاکھ روپے تک کا جرمانہ ہوگا، کسی بھی ہوٹل اور ریسٹورنٹ میں غیر معیاری کھانا دینے پر ایک لاکھ روپے کا جرمانہ ہوگا، لائسنس نہ رکھنے والے ریسٹورنٹ اور ہوٹل کو پانچ لاکھ روپے جرمانہ اور سیل کردیا جائے گا۔

دوسری جانب پنجاب ریونیو اتھارٹی نے ٹیکس نیٹ میں شامل نہ ہونیوالے ریسٹورنٹس کو جبری طور پر رجسٹرڈ کرنے کے نوٹسز جاری کردیئے، پی آراے نے پہلے مرحلہ میں جوہر ٹاؤن اور واپڈا ٹاؤن کے مختلف علاقوں میں قائم غیر رجسٹرڈ ریسٹورنٹس کو نوٹسز جاری کیے ہیں۔

اسی طرح مَیڈ مائٹی اینڈ ڈیلیشئس، چِینیز کچن، پزا پیزاز، حاجی بابا باربی کیو کو کمپلسری رجسٹریشن کے نوٹس جاری کرکے 15 دن میں ریگولر رجسٹریشن نہ کروانے کی صورت میں 50 ہزار روپے فی کس جرمانہ عائد کرنے اور سیل کرنے کا عندیہ دے دیا گیا ہے۔