ن لیگ نے سرکاری ملازمین کی تنخواہ بڑھانے کا مطالبہ کردیا

ن لیگ نے سرکاری ملازمین کی تنخواہ بڑھانے کا مطالبہ کردیا

عمر اسلم :سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں دس فیصد اضافہ کےمطالبےکی قرارداد پنجاب اسمبلی میں جمع،،لیگی ایم پی اے مرزاجاوید کہتےہیں کہ حکومت نےمعیشت کوتین ہزارارب کا نقصان جبکہ ایک کروڑ ساٹھ لاکھ لوگوں کو بےروزگار کردیا ہے

ن لیگ کے رکن اسمبلی مرزاجاویدنےقرارداد میں کہاکہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ نہیں کرنا توپھرچینی اڑتالیس روپےکلو،گھی ایک سو بیس روپے،آٹا چودہ سو روپے من اورضروریات زندگی کی اشیا کی قیمتیں کم کی جائیں،مرزاجاویدنےقرارداد میں کہاہےکہ ملکی تاریخ کا سب سے بڑے قرضے اور کورونا وائرس کے حوالےسے حکومت کوئی حکمت عملی نہیں بنا سکی جبکہ ملک کی تین کروڑ اسی لاکھ آبادی غذائی قلت کاشکارہے،ادویات کی قیمتوں میں دوسو سےچارسو فیصد اضافہ کرکےعوام کوپریشان کر دیا گیا، قرارداد میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں دس فیصد کےاضافےکامطالبہ کیاگیا ہے۔

یاد رہے پاکستان تحریک انصاف کی حکومت آج اپنا  دوسرا   بجٹ پیش کررہی ہے جس کے لیے  پنجاب اسمبلی کے بجٹ سیشن کا آغاز ہوگیا ہے۔   پنجاب کے آئندہ مالی سال کیلئے بجٹ کا حجم 22 کھرب40 ارب رکھا گیا، تخمینہ 1812 ارب کے نظرثانی شدہ بجٹ سے 428 ارب زائد ہے۔شعبہ صحت کیلئے 2کھرب 80ارب مختص کرنے کی تجویز کی گئی ہے، کورونا اثرات کم کرنے کیلئے23 شعبوں کو ٹیکس ریلیف ملے گا،شعبہ ایجوکیشن کیلئے مجموعی طورپر388ارب مختص کرنے کی تجویز سامنے آئی ہے۔

روڈ اور ٹرانسپورٹ کے شعبے کیلئے73 ارب روپے ،خدمات پرسیلز ٹیکس میں ریکارڈ کمی کی تجویز دی گئی ہے،پراپرٹی ٹیکس دو اقساط میں لینے کی تجویز،بیوٹی پارلرزپر کریڈٹ کارڈ سے ادائیگی پر5 فیصد ٹیکس کی تجویز،سکول ایجوکیشن کیلئے319 ارب مختص کرنے کی تجویز،صوبائی ٹیکس وصولی کا ہدف2کھرب 20ارب مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

واضح رہے وفاقی حکومت نے نئے مالی سال کے بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشنز میں کوئی اضافہ نہیں کیا ہے،اضافہ نہ ہونے پر سرکاری ملازمین میں غم و غصہ پایا جاتا ہے۔