بجٹ میں میٹروپولیٹن مکمل نظر انداز

بجٹ میں میٹروپولیٹن مکمل نظر انداز

( راؤ دلشاد ) تبدیلی سرکار کے بجٹ میں پرانے منصوبے نئے اعدادوشمار کے ساتھ متعارف کرانے کا انکشاف، شہر کی یونین کونسلز کے پرانے منصوبوں کےعلاوہ کوئی نیا منصوبہ نہیں رکھا گیا، محکمہ لوکل گورنمنٹ اینڈ کمیونٹی ڈویلپمنٹ پرانے 32  منصوبوں کو مکمل کرے گا۔

تبدیلی سرکار نے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں محکمہ لوکل گورنمنٹ اینڈ کمیونٹی ڈویلپمنٹ کے بینر تلے پارکنگ پلازوں اور یونین کونسلز میں انفراسٹرکچر کے منصوبوں پر 6 ارب 30 کروڑ روپے خرچ ہوں گے، تاہم میٹروپولیٹن کارپوریشن کو ایک مرتبہ پھر نظرانداز کردیا گیا۔

پنجاب حکومت بلدیاتی ایکٹ 2019 کے تحت وجود میں آنے والی نیبرہوڈ کونسلز اور ویلج پنچایت کونسلز کو براہ راست 42 ارب فراہم کرے گی۔ میٹروپولیٹن کارپوریشن سمیت 35 اضلاع میں نہ حلقہ بندیاں شروع ہوسکیں اور نہ الیکشن کا شیڈول الیکشن کمیشن کو دیا گیا۔

لاہور میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت دہلی گیٹ کے باہر انڈر گراؤنڈ پارکنگ پلازہ تعمیر کرنے کے پرانے منصوبے، شہر کی مختلف سائٹس پر پارکنگ پلازوں کی تعمیر اور ماڈل کیٹل مارکیٹ کے قیام کے لیے بھی 11،11 کروڑ رکھےگئےہیں۔ پرانے منصوبوں میں یونین کونسلز کی نئی عمارتوں کی تعمیر کے لیے 55 کروڑ، کوٹ لکھپت کی گلیوں کے پی سی سی ورکس کے لیے 50 لاکھ، فتح گڑھ، خیبر ٹاؤن، تلس پورہ، چمن پارک کی گلیوں کے پی سی سی ورک کے لیے 46 لاکھ 95 ہزار رکھے گئے ہیں۔

شاکر روڈ اچھرہ کی کارپٹ روڈ کی تعمیر کے لیے 60 لاکھ، یونین کونسل 86 کی تکیہ لہری شاہ سٹریٹ اور یونین کونسل 94 کی اسکندریہ کالونی کی گلیوں کے پی سی سی ورک کے لیے50 لاکھ مختص کیے ہیں، یونین کونسلز82، 89، 90، 91 اور97 کی سڑکوں کے لیے3 کروڑ، یونین کونسل 94 کی حاجی پارک اسٹریٹ کے لیے ایک کروڑ رکھے گئے۔

یونین کونسلز 269، 270 اور271 میں سیوریج پر 96 لاکھ، سولڈ ویسٹ سورٹنگ اینڈ کمپوزٹنگ پراجیکٹ کے لیے 5 کروڑ 20 لاکھ مختص کیے گئے ہیں جبکہ نامکمل غیرترقیاتی اسکیموں کے لیے17 کروڑ 50 لاکھ رکھے گئے ہیں۔

بجٹ میں محکمہ بلدیات تو پرانے 32 ترقیاتی منصوبے پایا تکمیل کو پہنچائے گا لیکن میٹروپولیٹن کارپوریشن کو ایک مرتبہ پھر نظرانداز کردیا گیا۔