غیرقانونی قبضہ کیس، آئی جی پنجاب سمیت دیگر افسران عدالت پیش

غیرقانونی قبضہ کیس، آئی جی پنجاب سمیت دیگر افسران عدالت پیش

ملک اشرف : متروکہ وقف املاک بورڈ کی اراضی پر پولیس قبضے کا معاملہ, لاہور ہائیکورٹ  میں پولیس قبضہ کے خلاف کیس کی سماعت ، ایڈیشن چیف سیکرٹری ہوم  ، آئی جی پولیس  ، ڈی جی انٹی کرپشن  سمیت دیگر افسران پیش ،سرکاری وکیل عدالت کو مطمن نہ کرسکا۔چیف جسٹس کا افسران کے خلاف مقدمہ  اور گرفتاری کا عندیہ۔ عدالت نے  آئیندہ سماعت پر آئی جی سےتفصیلی رپورٹ اور   ڈی جی اینٹی کرپشن کو قانونی معاونت کیلئے طلب کر لیا۔

تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ محمد قاسم خان نے محمد زکریا کی درخواست پر سماعت کی۔ایڈیشنل چیف سیکرٹری ہوم مومن علی آغا  ، آئی جی انعام غنی ، ایڈیشنل آئی جی فاروق مظہر ، ڈی آئی جی لیگل  جواد ڈوگر ،ڈی جی اینٹی کرپشن گوہر نفیس ،،ڈی سی لاہور مدثر ریاض سمیت دیگر افسران  پیش  ہوئے ۔چیف جسٹس محمد قاسم خان نے دوران سماعت  ریمارکس دیئے جتنی پرتیں کھل رہی ہیں اتنے گھائونے کام سامنے آ رہے ہیں، اس کیس کی تو تہہ کھل رہی ہے تو کئی انکشافات ہو رہے ہیں، پہلے ڈی ایچ اے والوں کا شہدا کے پلاٹوں کا فراڈ چل رہا ہے، اب پولیس والے ڈی ایچ اے والوں کو زمینیں دے رہے ہیں۔

سرکاری وکیل آصف بھٹی نے کہا کہ ان کی بات کو سن لیا جائے ۔چیف جسٹس محمد قاسم خان نے کہا بات سب کی سنتا ہوں، میں نہیں دیکھتا کوئی بندہ بڑا ہے یا چھوٹا ہے، آپ کی متفرق درخواست پر حیران ہو گیا ہوں، پولیس کی زمین پر ڈی ایچ اے کیسے دعویدار بن گیا؟ سرکاری وکیل بولا ڈی ایچ اے کا دعوی ہے کہ انہوں نے رقبے متروکہ وقف بورڈ سے خریدا، دعوی سول کورٹ میں زیر سماعت ہے، حکم امتناعی بھی جاری ہوا ہے، سرکاری وکیل  نے ایلیٹ ٹریننگ سکول کا ڈی سی لاہور کا تیار کردہ نقشہ عدالت میں پیش کیا اور بتایا کہ 1 ہزار 612 کنال متروکہ وقف املاک بورڈ سے ایلیٹ نے زمین لی، چیف جسٹس نے کہا متروکہ وقف املاک بورڈ کی اراضی کیسے پولیس کے پاس زمین کیسے جا سکتی ہے؟  یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ ہم غیر مسلوں کی جائیدادوں پر قبضے کر رہے ہیں، سرکاری وکیل نے کہا سر، سرکاری کاغذوں میں یہ زمین حکومت پنجاب کی ہے، اس پر پولیس کا سکول بنا، متروکہ وقف املاک کی زمین بھی اس میں آگئی، پولیس زمین کا کرایہ متروکہ وقف املاک کو دینے کو تیار ہے، چیف جسٹس نے کہا کسی زمین پر غیر قانونی قبضہ کرنا جرم ہے، اینٹی کرپشن عدالت کی معاونت کرے۔

درخواست گزار وکیل نے کہا پولیس والے سول عدالت کے حکم امتناعی کی آڑ لے رہے ہیں، حکم امتناعی میں صرف زمین کی حیئیت تبدیل کرنے سے روکا گیا ہے، چیف جسٹس نے کہا وقف زمین کا بنیادی اصول صرف وقف مقاصد کیلئے ہی استعمال ہو سکتی ہے،چیف جسٹس محمد قاسم  خان کا سرکاری وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ایسے لگتا ہے کہ 2001ء میں ایک لاکھ روپے فی کنال کے حساب سے زمین حاصل کی، میں تو یہ بھی پوچھوں گا کہ یہ رقم کہاں استعمال کرتے رہے ہیں، چیف جسٹس نے ڈی جی انٹی کرپشن سے استفسار کیا کہ پولیس اگر اختیارات سے تجاوز کرے تو کونسا ادارہ انکے خلاف کارروائی کر سکتا ہے، ڈی جی اینٹی کرپشن گوہر نفیس نے جواب دیا جی سر اگر اختیارات سے تجاوز ہو تو قانونی کارروائی ہو سکتی ہے۔

 چیف جسٹس نے کہا کہ بتایا جائے کب متروکہ وقف املاک بورڈ سے زمین لی گئی، عدالت نے سیکرٹری داخلہ سے ڈپٹی کمانڈنٹ ایلیٹ فورس میجر ثناء اللہ کے کوائف بھی طلب کر لئے۔ عدالت نے کیس مزید سماعت اکیس جنوری تک ملتوی کردی ۔درخواست گزار کی جانب سے موقف اختیار کیاگیا کہ متروکہ وقف املاک بورڈ کی 72 کنال اراضی لیز پر حاصل کی،  اراضی ایلیٹ ٹریننگ سکول کے قبضے میں ہے،استدعا ہے کہ عدالت پولیس کو قبضہ واگزار کرنے کا حکمدے ۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت اکیس جنوری تک ملتوی کرتے ہوئے آئی جی سے مفصل رپورٹ سمیت متعلقہ افسران کو طلب  کرلیا۔