پنجاب پولیس کے 1100 سے زائد اہلکار و افسر جرائم پیشہ نکلے

 پنجاب پولیس کے 1100 سے زائد اہلکار و افسر جرائم پیشہ نکلے
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

لوئرمال (علی ساہی) عوام کے جان و مال کے محافظ  پنجاب پولیس کے 1100سے زائد اہلکار وافسر جرائم پیشہ نکلے، 1103کانسٹیبل سے انسپکٹر رینک کے افسروں کے خلاف ناقص تفتیش ،قتل،ملزموں کو مدد  فراہم کرنے سمیت دیگر الزامات میں رواں سال مقدمات درج ہوئے ۔

پولیس کے اپنے اعداد و شمار کے مطابق سب سے زیادہ مقدمات 440 مقدمات کانسٹیبلز، 42 انسپکٹرز، 215 سب انسپکٹر، 336 اے ایس آئیز جبکہ 70 کانسٹیبلزکے خلاف مقدمات درج کیے گئے،لاہورکے3 انسپکٹر، 19 سب انسپکٹرز، 13 اے ایس آئیز 8 ہیڈکانسٹیبلز  اور 53 کانسٹیبلزکے خلاف مقدمات درج کئے گئے۔ سب سے زیادہ فیصل آباد ریجن میں 368، گوجرانوالہ 146، شیخوپورہ 88، راولپنڈی 75، سرگودھا میں 64 افسرواہلکاروں کیخلاف مقدمات درج ہوئے،  ملتان 84، ڈی جی خان 74 ساہیوال 69 اور  بہاولپورکے 39افسر و اہلکاروں کے خلاف مقدمات درج ہوئے، آئی جی پنجاب نے کیسز میں ملوث اہلکاروں وافسران کے کیسز  کی پیش رفت کی تفصیلات مانگ لی ہیں۔ 

دوسری جانب پنجاب پولیس نے  دہشتگردوں، بڑےچوروں، ڈاکوؤں کو پکڑنے کے لیے ایگزیکٹ لوکیشن حاصل کرنے کے لیے  جدید ٹیکنالوجی کے حامل جی ایس ایم لوکیٹر خریدنے کا فیصلہ کرلیا، پولیس کے لیے 40 کروڑ سے تھری جی اور فورجی چار "جی ایس ایم" لوکیٹر خریدے جائیں گے۔

یاد رہے کہ اس سے قبل پنجاب پولیس کے پاس15 ٹوجی، جی ایس ایم لوکیٹرزہیں، جن کی اب اہمیت کم ہوتی جا رہی ہے۔ جی ایس ایم لوکیٹرز کی آخری خریداری 10سال پہلے 2010 میں کی گئی تھی۔

Sughra Afzal

Content Writer