’’ شہبازشریف کو پی اے سی کا چیئرمین بنانا بِلے کو دودھ کی رکھوالی پربٹھانا ہے‘‘


سٹی42:  شہبازشریف  کو چیئرمین بنانے پر ہمیں پذیرائی نہیں ملی، وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید نے کہا کہ  شہبازشریف  کو پی اے سی کا چیئرمین بنانا بلے کو دودھ  کی رکھوالی پربٹھانے کے مترادف ہے۔

 ریلوے ہیڈ کوارٹرز  میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے شیخ رشید کا کہنا تھا کہ  شہبازشریف  اگردیانتدار ہے تو (ن) لیگ میں کوئی بددیانت نہیں،ان کا کہنا تھا کہ  شہبازشریف  کو  پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا چیئرمین بنانابلے کو دودھ کی رکھوالی پربٹھاناہے،  شہبازشریف  کو چیئرمین بنانے پر ہمیں پذیرائی نہیں ملی، خواجہ سعد رفیق کے پروڈکشن آرڈر سے متعلق سوال پر شیخ رشید کا کہنا تھا کہ خواجہ سعد رفیق کے والد کا مرتے دم تک احترام کروں گا یہ بڑے باپ کے چھوٹے بیٹے ہیں،میری مرتبہ تو کسی کو پروڈکشن آرڈر یاد نہ آئے۔

وزیر ریلوے شیخ رشید کا کہنا تھا کہ میری ماں کا جنازہ تھا اور مجھے کلاشنکوف کیس میں گرفتار کر لیا گیا، خودکوسینئرترین سیاسی کارکن قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ غسل خانے میں چٹخنی نہ ہونا کوئی ایشو نہیں، نیب حراست میں لوگ خاندانوں سے ملاقات کرتے ہیں،یہ کونسا خاندان ہے اور کس سے مذاکرات کر رہا ہے؟

ان کا کہنا تھا کہ رحمان بابا ایکسپریس 23 دسمبر کو پشاور سے کراچی کیلئے روانہ ہو گی، دس پندرہ دن میں ٹرینوں میں ٹریکرز لگا دیے جائیں گے،ٹریکرز کے بعد لوگوں کو ٹرینوں کے شیڈول کا بآسانی پتہ چل سکے گا، تہمینہ بی بی کا کیا کردار ہے مجھے نہیں پتہ، مارچ کے آخرتک جھاڑوپھرجائے گا،صحافیوں سے ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے ان کو لال حویلی میں دی گئی دعوت ہی منسوخ کردی۔

واضح رہے کہ شیخ رشید نے صحافیوں کے سوال و جواب پر وزیراعظم کی جانب سے وزارت اطلاعات کی پیشکش سے متعلق سرگوشی کی جو مائیک سے ہوتی ہوئی صحافیوں کے کانوں تک جا پہنچی اس کے بعد میڈیا میں ان خبروں کو بریکنگ نیوز کے طور پر پیش کیا گیا۔ 

شازیہ بشیر

Content Writer