وزیر خزانہ کا پیٹرولیم مصنوعات پر سبسڈی دینے سے متعلق اہم بیان

Miftah Ismail says no to subsidies on petroleum products. Miftah slams PTI chief Imran Khan for comparing Pakistan and India's economy
کیپشن: Miftah Ismail
سورس: google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک) وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے ایک بیان میں کہا آئی ایم ایف کی شرط پر عمل درآمد کرنے بعد   4 ارب ڈالر وصول ہوگئے، اس لئے حکومت پیٹرولیم مصنوعات پر سبسڈی دینے کی متحمل نہیں ہو سکتی۔

تفصیلات کےمطابق وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل نے گزشتہ روز نجی ٹی وی چینل کے ایک پروگرام میں بتایا کہ وزارت خزانہ پیٹرولیم مصنوعات پر  مزید ٹیکس اور لیوی نہیں لگائے گی مگر حکومت سبسڈی دیتے کوئی نقصان بھی برداشت نہیں کرسکتی، میزبان نے سوال کرتے پوچھا کہ کیا حکومت ڈالر کی قیمت کم اور روپے کی قدر میں اضافہ ہونے پر پیٹرول کی قیمتوں کم کرے گی۔

مفتاح اسماعیل نے کہا کہ آئی ایم ایف نے ہمارے لیے یہ شرط رکھی ہے کہ ہم پہلے کہیں اور سے 4 بلین ڈالر کا قرض لیں، ملک کچھ دوست ممالک سے مطلوبہ قرضہ ملنے کا امکان ہے،انہوں نے میزبان کو اس ہفتے پاکستان کو موصول ہونے والی دستاویز کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے کہا، ہم ارادے کے خط پر دستخط کر کے اسے کل تک آئی ایم ایف کو بھیج دیں گے۔

ایک اور سوال کا جواب دیتے ہوئے مفتاح اسماعیل نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں کو مل بیٹھ کر’’چارٹر آف اکانومی‘‘ سے متعلق بات چیت کرنی چاہیے،انہوں نے دکانوں پر لگے ٹیکس کے بارے بات کرتے کہا کہ چھوٹی دکانوں پر 3000 روپے ٹیکس لگانے کی غلطی کی، فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے 3 ہزار کی بجائے 6 ہزار کا ٹیکس لگایا تھا۔

پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان کی جانب سے پاکستان کی معیشت کا بھارت سے موازنہ کرنے پر ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پڑوسی ریاست 1950 کی دہائی سے ادارے بنا رہی ہے جب کہ پاکستان میں لوگ گلی ڈنڈا کھیل رہے تھے۔

ہمارے یہاں پروفیسرز بنانے کے لیے جعلی فیکٹریاں ہیں، ہم نے مشکل سے ہی ملک کے تعلیمی شعبے یا اس کی بڑھتی ہوئی آبادی پر توجہ دی، پی ٹی آئی یہاں حقیقی آزادی کے نعرے لگانے کے لیے موجود ہے اور  48 ارب ڈالر کا خسارہ چھوڑ گئی ہے۔