کوٹ لکھپت سبزی منڈی خالی کرانے کا معاملہ،نیب کے ریڈار پر آگیا

کوٹ لکھپت سبزی منڈی خالی کرانے کا معاملہ،نیب کے ریڈار پر آگیا

(درنایاب) سابق دور حکومت میں ایل ڈی اے کی جانب سے کوٹ لکھپت سبزی و فروٹ منڈی کو زبردستی خالی کرانے کا معاملہ بھی نیب کے ریڈار پر آگیا ، نیب نے ایل ڈی اے سے زمین کو خالی کرانے کی وضاحت طلب کرلی ۔

تفصیلات کے مطابق کوٹ لکھپت سبزی وفروٹ منڈی کوزبردستی خالی کرانےکامعاملہ نیب پہنچ گیا، نیب نے ایل ڈی اے سے زمین کو خالی کرانے  اورٹیپاانجنیئرنگ ونگ کی کارستانیوں کی وضاحت طلب کرلی،سابق وزیراعلی شہباز شریف کے حکم پر کوٹ لکھپت منڈی کو خالی کرایاگیا جس کو2010میں 118کنال اراضی کوبغیرکسی پلاننگ خالی کرانا شروع کردیاگیاتھا، ایل ڈی اے نے 103 دکانیں پہلے مرحلے میں خریدی جبکہدوسرے مرحلے میں زبردستی دکانیں خالی کراکر مسمار کردیں، نیب نے ایل ڈی اے سے زمین خالی کرانے کا مقصد پوچھا ہے،وضع کیا جائے قیمتی اراضی حکومت پنجاب کیوں خریدنا چاہتی تھی ؟

ذرائع کا کہنا تھا کہچیف انجنئیر ٹیپا نے دکانوں کے ملبے کی قیمت ناجائز طور پر بڑھا دی، منڈی میں پوسٹ آفس ، مارکیٹ کمیٹی کے دفتر ، بینک کی عمارت کوایکوائر کرلیا گیا، 9سال سے زمین خالی، ایل ڈی اے کوئی پلان پیش کرنے سے قاصر ہے جبکہایل ڈی اے اور مارکیٹ کمیٹی کی ملی بھگت سے دکانوں کی کیٹگریز کو تبدیل کردیا گیا،بی اور سی کیٹگری کو اے ظاہر کرکے لاکھوں کی زمین کو کروڑوں میں تبدیل کیا گیا، سابق سیکرٹری مارکیٹ کمیٹی شہزاد چیمہ نے آڑھت کے جعلی لائسنس دئیے.

سابق ڈی جی ایل ڈی اے زاہد اختر زمان نے حکومتی دباؤ پر زمین خالی کرائی, چیف انجنئیر مظہر حسین خان نے 118 کنال پر راتوں رات کمرشل پلان مرتب کردیا,انجنئیرنگ ونگ نے سٹرکچر کے معاوضے میں ردوبدل کی، کم معاوضے کو بڑھا دیا, اراضی کے عوض اربوں کی ادائیگیاں کرکے خزانے کو کروڑوں کا نقصان پہنچایا,کمرشل اراضی کو کوڑیوں کے مول سرکار کو دینے پر آڑھتیوں نے احتجاج کیا, زمین دینے سے انکاری پر بے گناہ آڑھتوں پر مقدمات درج کرائے گئے.

ذرائع کا مزید کہناتھا کہایل ڈی اے نے نیب کے لئے جواب تیاری پر کام شروع کردیا، نیب کو جواب وصول ہونے کے بعد انکوائری شروع کرنے کافیصلہ ہوگا، کوٹ لکھپت منڈی کی تحقیقات کھلنے سے بڑے بڑے کردار بے نقاب ہوں گے۔