ڈی پی او سیالکوٹ صحافیوں سے الجھ پڑے، آئی جی پنجاب عدالت پیش

 ڈی پی او سیالکوٹ صحافیوں سے الجھ پڑے، آئی جی پنجاب عدالت پیش

(ملک اشرف)  لاہورہائیکورٹ نےناقص تفتیش اورمقدمات کےریکارڈ میں ججزکا نام لکھنےپرڈی پی اوسیالکوٹ سےاظہار برہم اور عدالتی حکم پرآئی جی پنجاب ہائیکورٹ پیش ہوئے۔

تفصیلات کے مطابق جسٹس سیدمظاہرعلی اکبر نقوی نےمحمد وسیم کی درخواست پرسماعت کی،لڑائی،مار کٹائی کےملزم محمد وسیم کی درخواست ضمانت میں عدالتی حکم پرڈی پی اوامیرعبداللہ عدالت پیش ہوئے، ڈی پی او کےمبہم جواب اور ریکارڈ میں فاضل جج کانام لکھنےپرعدالت نےاظہار برہمی کرتے ہوئےفوری طور پر آئی جی پنجاب امجد جاوید سلیمی کوعدالت میں طلب کر لیا،عدالت نےریمارکس دئیےکہ40 روز گزرنے کےباوجود مقدمے کی تفتیش میں ایک لفظ بھی نہیں لکھا گیا،واضع ہدایت کےباوجود مقدمے میں جج کا نام کیوں لکھاگیا؟جسٹس سید مظاہرعلی اکبرنقوی نے حکم دیا کہ ڈی ایس پی اورایس ایچ اوزکوبلاکران کے خلاف کارروائی کریں۔

آئی جی پنجاب امجد جاوید سلیمی نےعدالت کو یقین دہانی کرائی کہ غفلت کےمرتکب افسروں کےخلاف فوری ایکشن لیں گے،عدالت نےآئی جی کو حکم دیا کہ مقدمات کےمتعلقہ ریکارڈ میں فاضل ججز کےنام نہ لکھنےبارے مراسلہ دوبارہ صوبہ بھرکےپولیس افسران کو لکھا جائے،آئی جی پنجاب امجد جاوید سلیمی نے عدالت کو بتایا کہ افسران کوججزکےنام نہ لکھنےکےحوالے سے آگاہ کردیا۔

عدالتی کارروائی کےبعد ڈی پی او سیالکوٹ امیرعبداللہ نےفوٹیج بنانےپرسارا غصہ صحافیوں پرنکالا، ڈی پی او نےاپنے ماتحت افسروں کےساتھ فوٹیج بنانےوالےصحافیوں سے موبائل چھین لیےاوران سے ہاتھا پائی کی کوشش بھی کی۔