لاہور میں لاک ڈاؤن کے باوجود ٹرانسپورٹ چل پڑی

لاہور میں لاک ڈاؤن کے باوجود ٹرانسپورٹ چل پڑی
Transport

(علی اکبر)این سی او سی اورحکومت پنجاب کے احکامات کی خلاف ورزی،لاہور سمیت پنجاب کے 15 اضلاع میں لاک ڈاؤن نافذ ، ان اضلاع کے مابین چلنے والی ٹرانسپورٹ مکمل طور پر بند کرنے کا اعلان کیا گیا تھا، منتخب اضلاع کے مابین چلنے والی ٹرانسپورٹ مکمل طور پر بند نہ ہو سکی۔

کورونا وائرس کے پیش نظر نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی)اورحکومت پنجاب کی سفارشات کے مطابق لاہور سمیت پنجاب کے 15 اضلاع میں لاک ڈاون نافذ ہے اور منتخب اضلاع کے مابین چلنے والی ٹرانسپورٹ مکمل طور پر بند کرنے کا اعلان کیا گیا تھا، اس کے باوجود منتخب اضلاع کے مابین چلنے والی ٹرانسپورٹ مکمل طور پر بند نہ ہو سکی۔

لاہور لاڑی اڈے کی انتظامیہ کی جانب سے اڈا تو بند کیا گیا ہے لیکن اڈے سے چند قدم آگے منتخب اضلاع کے مابین چلنے والی بسوں میں مسافروں کو بیٹھا کر روانگی کے لئے تیار کیا جاتا ہے, اس کے علاوہ مسافروں نے نہ تو پہنا ہوا ہے نہ تو سماجی فاصلہ برقرار رکھا ہوا ہے اور منتخب اضلاع کے مابین چلنے والی ٹرانسپورٹ پر پابندی ہونے کے باوجود لاڑی اڈا انتظامیہ ٹرانسپورٹ چلا رہے ہیں۔

دوسری جانب شہر میں چلنے والے چنگچی رکشوں کے لیے بھی قانون سازی ہوگی،محکمہ ٹرانسپورٹ نے چنگچی رکشوں کا معاملہ روڈ سیفٹی اتھارٹی کے سپرد کردیا، پنجاب روڈ سیفٹی اتھارٹی اب چنگچی رکشوں کے متعلق قانون سازی کرے گی،شہر میں بڑھتے ہوئے چنگچی رکشوں پر قانون سازی کے ذریعے قابو پایا جائے گا ۔

چنگچی رکشوں کی فٹنس ،اور تیار کرنے والوں کو قانونی دائرہ کار میں لایا جائے گا ، چنگچی رکشوں میں سیفٹی کے معیار کو برقرار رکھنے کے لیے کام کیا جارہا ہے، وزیر اعلیٰ پنجاب کی جانب سے ٹرانسپورٹ کی بہتری پر بنائی گئی کمیٹی نے سفارشات کردیں، پنجاب روڈ سیفٹی اتھارٹی فعال ہوتے ہی چنگچی رکشوں کےمعملات پر کام کرے گی۔