موبائل پر دوستی کا بھیانک انجام، لڑکی سے اجتماعی زیادتی

موبائل پر دوستی کا بھیانک انجام، لڑکی سے اجتماعی زیادتی
Girl Rape

سٹی 42: خواتین کے ساتھ ہونے والی غیر اخلاقی حرکات، ہراسگی، زیادتی جیسے واقعات کی جڑیں معاشرے میں تیزی سے مضبوط ہورہی ہیں جس کی اہم وجہ ملزموں کے خلاف محض کاغذی کارروائی اور پھر باعزت بری کردیا جاتا ہے، لاہور  کے علاقے ستوکتلہ میں ایک ایسا ہی واقعہ پیش آیا۔

تفصیلات کے مطابق ستوکتلہ کے علاقے میں اوکاڑہ سے آئی لڑکی مبینہ اجتماعی زیادتی کا شکار بن گئی۔ ملزم شرافت نے اوکاڑہ کی رہائشی لڑکی سے موبائل پر دوستی کی۔ ایس پی صدر کا کہنا تھا کہ متاثرہ لڑکی اپنی خالہ کوملنے لاہور آئی تو ملزم شرافت کیساتھ فون پر رابطہ کیا اور ملنے کا کہا۔ ملزم خاتون کو ہوٹل میں لے گیا۔

شرافت نے لڑکی کو جوس پلایا جس سے وہ بیہوش ہوگئی، ملزم اور اس کے 2 دوستوں نے لڑکی کو زیادتی کا نشانہ بنایا۔ ستوکتلہ پولیس نے مقدمہ درج کرتے ہوئے مرکزی ملزم شرافت کو گرفتار کر لیا ہے جبکہ دیگر ملزموں کی گرفتاری کیلئے چھاپے مارے جارہے ہیں۔ 

دوسری جانب پولیس ریکارڈ کے مطابق رواں سال 26 اگست تک صوبائی دارالحکومت میں خواتین سے زیادتی کے پچاس فیصد مقامات جھوٹے نکلے ہیں۔ رواں سال شہر کے تھانوں میں 368 مقدمات درج کیے گئے تھے، جن میں درج مقدمات میں سے 113 کیسز زیر سماعت ہیں۔ پولیس نے 86 مقدمات کے چالان مکمل کرکے عدالتوں میں جمع کروا دیئے۔

عدم پیروی، صلح اور تفتیش کی بنیاد پر 101 مقدمات کو خارج کر دیا گیا، اسی طرح درج مقدمات میں سے 42 خواتین نے اپنا میڈیکل ہی نہ کرایا جبکہ بے گناہ 61 افراد کے خلاف جھوٹے مقدمات درج کرائے گئے۔ پولیس ریکارڈ کے مطابق نامعلوم  72 ملزموں کو پولیس تاحال گرفتار نہ کرسکی جبکہ 14 ملزموں کو اشتہاری قرار دیا گیا۔