مسلم لیگ (ن) خواتین اور بچوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات پر وائٹ پیپر جاری کردیا

مسلم لیگ (ن) خواتین اور بچوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات پر وائٹ پیپر جاری کردیا

       سٹی42: مسلم لیگ (ن) نے پنجاب میں دو سالوں میں خواتین اور بچوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات پر وائٹ پیپر جاری کردیا، وائٹ پیپر مسلم لیگ (ن) پنجاب کی ترجمان عظمیٰ بخاری کی جانب سے جاری کیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق مسلم لیگ (ن) نے پنجاب میں دو سالوں میں خواتین اور بچوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات پر وائٹ پیپر جاری کردیا، وائٹ پیپر مسلم لیگ (ن) پنجاب کی ترجمان عظمیٰ بخاری کی جانب سے جاری کیا گیا۔

 

جاری کردہ پیپر میں کہا گیا کہ  جنوری 2019 سے دسمبر تک پنجاب میں 1125 بچوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا، سال 2019 میں لاہور میں 123 بچوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا، سال 2019 میں اوسطا  7 بچوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا، سال 2020 جنوری تا جون کے دوران بچوں پر جنسی تشدد کے واقعات کی سب سے زیادہ تعداد صوبہ پنجاب میں رپورٹ ہوئے۔

 

جاری کردہ پیپر میں کہا گیا کہ   پنجاب میں ٹوٹل 853 بچے جنسی زیادتی کا شکار ہوئے، وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں 35بچے، خیبر پختون خواہ میں91 بچے جنسی زیادتی کا شکار ہوئے، سال2020 جنوری تا جون کے دوران 1340 واقعات پولیس سٹیشن میں رپورٹ ہوئے،  7 واقعات رپورٹ نہ ہوئے، 7 واقعات پولیس نے رپورٹ نہ کیے۔

 سال2020 جنوری تا جون کے دوران لاہور میں 37 بچے جنسی تشدد کا نشانہ بنے، 2019 میں پنجاب بھر میں خواتین سے زیادتی کے3 ہزار 387 واقعات رپورٹ ہو چکے ہیں، اسی عرصے میں غیرت کے نام پر 149 خواتین کو بے دردی سے قتل کر دیا گیا ہے جبکہ تیزاب پھینکنے کے 36 واقعات بھی رپورٹ ہوئے ہیں۔

عظمیٰ بخاری کا کہنا تھا کہ  موٹروے پر خاتون سے زیادتی ہوتی ہے تو سی سی پی او کہتے ہیں عورت باہر کیوں نکلی؟ اگر پولیس شہریوں کو تحفظ فراہم نہیں کرسکتی تو مفت کی روٹیاں کیوں توڑتی ہے؟ عوام کے جان و مال کے تحفظ کی ذمہ داری پولیس اور ریاست کی ہوتی ہے، ہے کوئی ریاست مدینہ میں سننے والا؟   وزیراعظم اور حکومتی ترجمانوں کو اپنے کاموں سے فرصت نہیں ہے:عظمیٰ بخاری وزیراعظم اور ان کے ترجمانوں کو نظر نہیں آرہا، خواتین اور بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات کس حد تک بڑھ گئے ہیں۔

 

عظمیٰ بخاری  کا مزیف کہنا تھا کہ حکمرانوں کی ابھی توجہ توجہ اپنے مرضی کے افسران لگانے پر ہے، عوام آدمی کے تحفظ اور درپیش مسائل سے حکومت کوئی سرکار نہیں ہے۔