پی ایچ ای سی کا جعلسازی سے پرائیوٹ یونیورسٹیز کو فائدہ پہنچانے کا انکشاف

پی ایچ ای سی کا جعلسازی سے پرائیوٹ یونیورسٹیز کو فائدہ پہنچانے کا انکشاف
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

 ریحان گل: پنجاب ہائرایجوکیشن کمیشن کا جعلسازی سے پرائیوٹ یونیورسٹیز کو فائدہ پہنچانے کا انکشاف، اجلاس کی کارروائی میں ردوبدل کر کے غلط  میٹنگ منٹس جاری کر دئیے، سیکرٹری صحت نبیل اعوان کے خط  نے پی ایچ ای سی  کی  ہیرا پھیری کا بھانڈا پھوڑ دیا۔

 

تفصیلات کے مطابق سیکرٹری سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئراینڈ میڈیکل ایجوکیشن نبیل اعوان کی جانب سے پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن کو لکھے گئے خط میں پی ایچ ای سی کی   جعلسازی سے پردہ اٹھایا گیا ہے، خط میں لکھا گیا ہے کہ پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن نے نور یونیورسٹی اور سالار انٹرنیشنل یونیورسٹی کو جعلسازی سے فائدہ  پہنچانے کی کوشش کی۔

 

اجلاس کی ریکارڈنگ کے باوجود منٹس میں محکمہ صحت کے اعتراضات شامل نہیں کیے گئے، محکمہ صحت کے نمائندہ کے بارہا مطالبے کے باوجود اجلاس سے پہلے پی ایچ ای سی نے تفصیلی ورکنگ پیپر فراہم نہیں کیا، انکوائری اور انسپکشن کمیٹی نے مطلوبہ بنیادی معلومات فراہم نہیں کیں۔

 

پی ایچ ای سی کے پاس انفرادی کیسز کے میرٹ کا قانونی اختیار نہیں، اجلاس کےدوران نجی جامعات کی دوبارہ سماعت کا کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا، چیئرمین پی ایچ ای سی نے تمام ممبران کے فیصلے کے  برخلاف ووٹنگ کرانے کی کوشش کی، چیئرمین پی ایچ ای سی کا ووٹنگ کرانے کا عمل قطعی طور پر غیر قانونی ہے۔

کمیشن اجلاس کی کارروائی کے منٹس دوبارہ  سے تیار  کیے جائیں، محکمہ صحت کے تمام اعتراضات کو منٹس کا حصہ بنایا جائے۔