17 نئے ماڈل بازار بنانے کا منصوبہ لٹک گیا

 17 نئے ماڈل بازار بنانے کا منصوبہ لٹک گیا

لوئر مال (عثمان علیم)  پنجاب ماڈل بازار مینجمنٹ کمپنی کا 17 نئے ماڈل بازار بنانے کا منصوبہ مالی مشکلات کے باعث التواء کا شکار، جگہوں کی نشاندہی اوراین او سی کا عمل مکمل مگر فنڈز نہ ہونے کے باعث منصوبہ شروع نہ کیا جاسکا۔

 

ذرائع کے مطابق پنجاب حکومت کی ہدایات پر ماڈل بازار مینجمنٹ کمپنی نے منصوبے کی فیزیبلٹی 8 ماہ سے تیار کر رکھی ہے، جگہوں کی نشاندہی اور این او سی کا عمل بھی مکمل ہے مگر فنڈز نہ ہونے کے باعث منصوبہ تاحال شروع نہیں کیا جاسکا، منصوبے کے لیے ایک ارب 22 کروڑ کے فنڈز درکار ہیں مگر ایک پیسہ بھی تاحال جاری نہ ہوا۔

 

ذرائع کا کہنا ہے کہ ماڈل بازار مینجمنٹ کمپنی نے منصوبے کے آغاز کیلئے پنجاب حکومت سے فنڈز کی استدعا کر رکھی ہے مگر تاحال فنڈز کی فراہمی نہیں کی جا سکی، جس کے باعث عوامی فلاحی منصوبہ تاحال شروع نہیں ہو سکا۔

دوسری جانب سیکرٹری انڈسٹری کیپٹن ریٹائرد ظفر اقبال  نے پنجاب بھر کے  32 ماڈل بازاروں میں کوالٹی بہترین کرنے اور  عوامی  شکایت کو اولین ترجیح پر حل کرے کی ہدایت کردی۔ ماڈل بازاروں میں تمام اشیا کی سرکاری نرخ نامے کے مطابق فروخت جاری ہے ۔

 

علاوہ ازیں لاہور میں 100 انصاف سکول بنانے کا منصوبہ بھی کھٹائی میں پڑ گیا، کفایت شعار کمیٹی نے بسیں خریدنے کے منصوبے میں مبینہ کرپشن کا انکشاف ہونے پر ایجوکیشن اتھارٹی لاہور کو بسیں خریدنے سے روک دیا ہے، اب ایجوکیشن اتھارٹی لاہور کو بسیس خریدنے سے قبل کفایت شعار کمیٹی کو اس منصوبہ کیلئے رضا مند کرنا لازمی ہوگا۔

 

ایجوکیشن اتھارٹی حکام کا کہنا ہے کہ کورونا کے باعث بسیں خریدنے میں تاخیر ہوئی، جونہی کفایت شعار کمیٹی اجازت دے گی، بسوں کی خریداری کرلی جائے گی ۔