بلوں میں رعایت نہ دینے کا معاملہ، فیکٹری مالکان عدالت پہنچ گئے

بلوں میں رعایت نہ دینے کا معاملہ، فیکٹری مالکان عدالت پہنچ گئے

( ملک اشرف ) ٹیکسائل ملوں سمیت دیگر انڈسٹریز کو بجلی کے بلوں میں رعایت نہ دینے کا معاملہ، فیکٹریز نے بجلی کے بلوں میں اضافی سرچاجز کی وصولی کے خلاف لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کرلیا۔

تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس ہائیکورٹ محمد قاسم خان 32 فیکٹریوں کی درخواستوں پر سماعت کریں گے۔ درخواست گزاروں کی جانب سے خلیل الرحمان ایڈووکیٹ نے موقف اختیار کر رکھا ہے کہ وفاقی حکومت نے صنعتی اداروں کو بجلی کے بلوں میں رعایت دینے کےلیے نوٹیفکیشن جاری کیا۔

جنوری دو ہزار انیس کو جاری کیے ایس آر او میں زیرو ریٹنڈ انڈسٹری سے سات اعشاریہ پانچ پرسنٹ وصول کیا جانا تھا، زیرو ریٹنڈ انڈسٹری میں فیول چارجز، فیول ایڈجنسمنٹ اور نیلم جہلم چارجز وفاقی حکومت نے برداشت کرنا تھے۔

وزارت انرجی کے جاری نوٹیفکیشن میں ٹیکسٹائل انڈسٹری میں اضافی سرچارج وصول نہ کرنے کی سہولت تیس جون دو ہزار بیس تک موجود ہے۔ وفاقی حکومت نے بجلی کے بلوں کی رعایت بارے دوبارہ نوٹیفکیشن جاری کیا، یکم جنوری 2019 سے دسمبر2019 تک گزشتہ تاریخوں پر اضافی سرچارجز عائد کیے گئے۔

بجلی کے بلوں میں حکومتی نوٹیفکیشن کے مطابق رعایت کے لیے ایف بی آر کو درخواستیں دیں مگر شنوائی نہیں ہورہی۔ لیسکو، فیسکو سمیت دیگر کی جانب سے بجلی کے بلوں رعایت نہیں دی جارہی۔

درخواست گزاروں نے استدعا کی کہ عدالت کمشنر ان لینڈ ریونیو کو زیر التواء درخواستوں پر فیصلہ کرنے کا حکم دے۔ مزید استدعا کی گئی کہ عدالت بجلی کے بلوں میں اضافی سرچارجز وصول کرنے کے اقدام کو کالعدم قرار دے۔