پبلک ٹرانسپورٹ چلے گی یا نہیں؟ فیصلہ ہوگیا


علی عباس: وزیر اعظم پاکستان کی سربراہی میں قومی رابطہ کمیٹی کا اجلاس، کمیٹی نے نے پنجاب میں ایس او پیز کے مطابق عید کے دنوں میں انٹر سٹی پبلک ٹرانسپورٹ چلانے کی اجازت دے دی ۔ پنجاب حکومت پبلک ٹرانسپورٹ چلانے کے حوالے سے آئندہ چوبیس گھنٹوں میں باقاعدہ اعلان اور نوٹفکیشن کا اجرا کرے گی ۔

وزیر اعظم عمران خان کی سربراہی میں ہونے والے قومی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں ٹرانسپورٹ اور ایس او پی پر عملدرآمد نہ کرنے اور خلاف ورزی کرنے والوں کی رہائی پر جائزہ لیا گیا ۔اجلاس میں وزیر اعلی پنجاب نے ڈی جی خان سے براہ راست اجلاس میں شرکت کی جبکہ اجلاس میں چیف سیکرٹری پنجاب اور آئی پنجاب سمیت ٹرانسپورٹ اور دیگر متعلقہ محکمون نے پنجاب سے شرکت کی.

اجلاس میں وزیر اعلی پنجاب ایس او پیز پر عمل کرانے کے بعد پنجاب میں پبلک ٹرانسپورٹ کو عید کے دنوں میں نے چلانے کی حوالے سے سفارشات دیں۔ذرائع کے مطابق وزیر اعلی پنجاب نے ایس او پیز کے مطابق قومی رابطہ کمیٹی کے سامنے ایجنڈا پیش کیا جس پر وزیر اعظم پاکستان پنجاب حکومت کو ایس او پیز کے تحت پبلک ٹرانسپورٹ چلانے کی منظوری دے دی ہے ۔

ذرائع نے بتائا ہے کہ پنجاب حکومت آئندہ چوبیس گھنٹوں میں پبلک ٹرانسپورٹ چلانے کا باقاعدہ نوٹفکیشن جاری کرے گی جس میں ٹرانسپورٹ اور مسافروں کے حوالے سے تمام ایس او پیز بھی درج ہوں گے ۔دوسری جانب سے ذرائع کا کہنا ہے لاہور میٹروبس ، راولپنڈی اور ملتان میٹروبس پر اب مزید فیصلہ پنجاب حکومت ہی کرے گی ۔

اجلاس میں ٹرانسپورٹ کے کرایون میں بھی کمی کے حوالے بھی بات چیت کی گئی,  صوبائی حکومتوں کو پیٹرول کی قیمتوں میں کمی کے بعد کرایوں کی قیمتوں میں بھی کمی کرانے پر سختی سے عملدرآمد کرانے کا کہا گیا ہے ۔

واضح رہے کہ پنجاب حکومت نے عید سے پہلے ٹرانسپورٹ کو کھولنے کا فیصلہ وفاقی حکومت کی اجازت سے مشروط کیا تها۔