پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن نے خطرے کی گھنٹی بجا دی

پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن نے خطرے کی گھنٹی بجا دی

شادمان (حسن علی ) پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن پنجاب زون کے چیئرمین عبدالرؤف مختار نے پنجاب حکومت کی ناقص پالیسیوں کے باعث آٹے کی قلت کی گھنٹی بجا دی۔

سٹی 42 سے گفتگو کرتے ہوئے عبدالرؤف مختار نے کہا کہ حکومت پنجاب اور محکمہ خوراک نے فلور ملز کو بروقت نجی طورپر گندم کی خریداری نہیں کرنے دی، فلور ملز کے پاس گندم کا سٹاک موجود نہیں ہے اور ملیں چلانا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس سال پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ گندم خریداری مہم کے دوران محکمہ خوراک نے فلور ملز کو گندم خریداری کی اجازت نہیں دی، جس کے باعث گندم سٹاک ختم ہو چکاہے، محکمہ خوراک تاحال گندم خریداری کا ہدف پورا نہیں کر سکا، اس وقت تک صرف 33 لاکھ 50 ہزار ٹن گندم خریدی جا سکی ہے جبکہ محکمہ خوراک کے کیری اوور میں سٹاک صرف ایک لاکھ ٹن تھا۔

انہوں نے کہاکہ اب تک گندم کی 90 فیصد کٹائی مکمل ہو چکی ہے اور محکمہ خوراک کا گندم خریداری کا ہدف 45 لاکھ ٹن کا ہے،موجودہ حالات کے تناظرمیں محکمہ خوراک کا ہدف پورا ہونا ممکن نظر نہیں آتا۔

عبدالرؤف مختار کا کہنا تھا کہ ابھی بھی اگر محکمہ خوراک نے ہوش کے ناخن نہ لئے تو آٹے کی قلت پیدا ہو سکتی ہے، اسکی تمام تر ذمہ داری حکومت اور محکمہ خوراک پر ہوگی۔

ذرائع کے مطابق ملک میں بے وقت کی بارش اور ژالہ باری نے گندم اور دوسری فصلوں کوشیدنقصان پہنچایاہےجس کی وجہ سے کاشتکار پریشانی کاشکار ہوگئے، کیونکہ بارش کے باعث جہاں گندم کی کٹائی میں مشکلات کاسامناہے وہیں کپاس کی بوائی بھی تاخیر کاشکار ہورہی ہے۔ماہرین کاکہناہےکہ کپاس کی فصل بروقت کاشت نہ ہوئی توپیداوار میں کمی کاخدشہ ہے۔

کسانوں کا کہنا ہے کہ گندم کے کھیتوں میں اگر ضرورت سے زیادہ پا نی جمع ہو جائے تو فصل برباد ہو جا تی ہے اور گند م کا پودا سوکھ جا تا ہے۔