اورنج لائن ٹرین منصوبے کے ہارٹیکلچر ورکس کے فنڈز کورونا کی نذر

اورنج لائن ٹرین منصوبے کے ہارٹیکلچر ورکس کے فنڈز کورونا کی نذر

جیل روڈ (درنایاب) اورنج لائن ٹرین منصوبے کے ہارٹیکلچر ورکس کے فنڈز بھی کورونا وائرس کی نذرہوگئے، پنجاب حکومت نے ہارٹیکلچر ورکس کے دس کروڑ کے فنڈزضبط کرلیے، پی ایچ اے نے فنڈز واپس مانگنے کے لیے مراسلہ لکھ دیا ہے۔

پنجاب حکومت نے لاہورمیں ماس ٹرانزٹ منصوبے اورنج لائن ٹرین کے ہارٹیکلچر ورکس کے دس کروڑ کے فنڈز ضبط کرلیے ہیں، ڈی جی پی ایچ اے نے حکومت پنجاب کو ترجیحی منصوبے کے فنڈز  کی فراہمی کے لیے خط لکھا ہے،جس میں فنڈز کی واپسی کا مطالبہ کیا گیا، پی ایچ اے کیلئے رواں مالی سال میں اورنج لائن ٹرین کی مد میں تیس کروڑ سے زائد کے فنڈز مختص کیے گئے تھے۔

حکومت پنجاب نے پی ایچ اے کواب تک سترہ کروڑ روپے ریلیزکیے، پی ایچ اے نے سترہ کروڑ میں سے سات کروڑ نوے لاکھ کے فنڈز استعمال کیے اورادائیگیاں کیں، خط کے مطابق پی ایچ اے نے ریلیز شدہ دس کروڑ کے فنڈز کے عوض کام کرایا، فنڈز نہ ہونے کی وجہ سے کرائے گئے کام کی مد میں ادائیگیاں کی جانا ابھی  باقی ہیں۔

واضح رہے پی ایچ اے پہلے ہی مالی مسائل کا سامنا کررہا ہے اورنج لائن پراجیکٹ کے پیسے جانے سے مسائل بڑھیں گے اور منصوبے پر ہارٹیکلچر ورکس بھی ادھورا رہ جائے گا۔

دوسری جانب  اورنج لائن میٹرو ٹرین منصوبے کیلئے حاصل کئے گئے قرض پر سالانہ 6ارب 28کروڑ صرف سود کی مد میں ادا کرنے کا انکشاف ہوا ہے۔ ذرائع کے مطابق پنجاب حکومت  2024 سے 2036 تک اورنج لائن میٹرو ٹرین منصوبے کا قرض ادا کرے گی اور اس دوران 9 کھرب 53 ارب سے زائد رقم کا مقروض صوبہ پنجاب سالانہ 6 ارب 28 کروڑ روپے قرض پر سود ادا کرے گا۔ پنجاب حکومت 12 سال تک سالانہ 40 اعشاریہ 62 ملین امریکی ڈالر پہلی ملکی لائٹ ریل کے قرض پر سود ا دا  کرے گی۔