سابق وزیراعظم کے جیل میں علاج کی غضب کہانی سامنے آگئی


( زاہد چودھری ) سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کو جیل میں کارڈیک یونٹ قائم کرکے علاج دینے کے حکومتی بلند و بانگ دعوے کی قلعی کھل گئی، ایمبولینس کے ساتھ زیرتربیت ڈاکٹرز تعینات کردیئے گئے، کسی ماہر امراض قلب کو ڈیوٹی پر مامور ہی نہ کیا گیا۔

حکومت کی جانب سے میاں نوازشریف کے ہسپتال میں داخل ہو کرعارضہ قلب کے علاج سے انکار پر حکومت کی جانب سے کوٹ لکھپت جیل میں کارڈیک یونٹ کے قیام کا دعوی کیا گیا تھا تاہم حکومتی دعوے کی قلعی اس وقت کُھلی جب یہ انکشاف ہوا کہ جیل میں جن ڈاکٹرز کو آٹھ آٹھ گھنٹے کی شفٹ میں ڈیوٹی پر مامور کیا جارہا ہے وہ زیرتربیت پوسٹ گریجوایٹ ڈاکٹرز ہیں، کسی بھی ماہر امراض قلب کو کوٹ لکھپت جیل میں ایمبولینس کور کے ساتھ ڈیوٹی پر مامور ہی نہیں کیا گیا ہے۔

واضح رہے گزشتہ 6 روز کے دوران جن ڈاکٹرز کو کوٹ لکھپت جیل میں ڈیوٹی پر مامور کیا گیا وہ تمام پی جی ٹرینی ڈاکٹرز تھے۔ اس صورتحال سے حکومت کے کوٹ لکھپت جیل میں نواز شریف کے علاج کیلئے کارڈیک یونٹ قائم کرنے کے دعوے کی اصل حقیقت سامنے آگئی ہے۔