سرکاری یونیورسٹیز کی خود مختاری ختم کرنیکا فیصلہ


( سٹی 42 ) تحریک انصاف کی حکومت کا پنجاب کی سرکاری یونیورسٹیز کی خود مختاری ختم کرنے کا فیصلہ، پنجاب کی سرکاری یونیورسٹیز کے ایکٹ کو تبدیل کرنے کیلئے نیا قانونی مسودہ تیار کر لیا گیا۔

وزیر ہائیر ایجوکیشن راجہ یاسر ہمایوں کی ایماء پر یونیورسٹیز ایکٹ کا ترمیمی مسودہ تیار کیا گیا۔ مسودہ کے مطابق حکومت نے پنجاب کی سرکاری یونیورسٹیز کی خود مختاری ختم کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ حکومت نے سنڈیکیٹ کو ریٹائرڈ بیوروکریٹس اور ججز کے ماتحت کرنے کا قانون بنا لیا ہے۔

نئے قانون کے مطابق وائس چانسلرز سے سنڈیکیٹ کی چیئرمین شپ اور فیصلوں کا اختیار چھیننے کی تیاری کرلی گئی ہے۔ سرکاری یونیورسٹیز میں ریٹائرڈ جج، بیوروکریٹ چیئرمین سنڈیکیٹ کے عہدے پر تعینات ہونگے۔ وائس چانسلرز کی کارکردگی جانچنے کا اختیار پنجاب ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے سپرد ہوگا۔ پنجاب ہائیر ایجوکیشن کمیشن سال میں دو مرتبہ وائس چانسلرز کی کارکردگی کا آڈٹ کریں گے۔

وائس چانسلرز اپنی مدت تقرری کے دوران سول سرونٹ تصور کیے جائیں گے اور وائس چانسلر کو دباؤ میں رکھنے کے لئے پیڈا ایکٹ کے دائرے میں لایا جائے گا۔ گورنر پنجاب بطور چانسلر یونیورسٹیز کیلئے الگ الگ پرفارمنس انڈیکیٹرز مقرر کریں گے جبکہ سینڈیکیٹ کے چار منتخب ممبران میں سے کم از کم دو خواتین ہوں گی۔

وائس چانسلر کی تنخواہ مقرر کرنے کا اختیار سرچ کمیٹی کو سپرد کیا جائے گا۔ 1973 سے لیکر 2019 تک کے تمام یونیورسٹیز کے ایکٹ میں تبدیلیوں کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ یونیورسٹیز کا ترمیمی قانون پنجاب اسمبلی منظوری کیلئے پیش ہوگا۔