تے کیہہ کرے گا قاضی۔۔۔۔۔

تے کیہہ کرے گا قاضی۔۔۔۔۔

(جمالدین جمالی)پسند کی شادی کرنےوالا جوڑا عدالت پنچ گیا، لڑکی کہا میں عاقل و بالغ ہوں شوہر کے ساتھ جانا چاہتی ہوں، سیشن عدالت نے پسند کی شادی کرنے والی لڑکی کو خاوند کے ساتھ جانے کی اجازت دے دی.

تفصیلات کےمطابق ایڈیشنل سیشن جج نزیر احمد نے کیس پر سماعت کی، شہری عارف نے بیٹی کے اغوا کا مقدمہ درج کرایا ہوا تھا، عدالت کے حکم پر لڑکی مریم اور اس کا خاوند پیش ہوئے، لڑکے کی جانب سے نصیب انجم ایڈووکیٹ پیش ہوئے،لڑکی نے پیش ہو کر عدالت کے روبرو بیان میں کہا میں نے محمد فیضان سے پسند کی شادی کی۔

والد نے تھانہ ستوکتلہ میں اغواء کا جھوٹا مقدمہ درج کرایا، مجھے کسی نے اغواء نہیں کیا شوہر کے ساتھ جانا چاہتی ہوں عدالت نے لڑکی کو خاوند کے ساتھ جانے کی اجازت دے دی۔

واضح رہے کہ بدقسمتی سے معاشرے میں پسندکی شادی کو اس قدرمعیوب سمجھا جاتا ہے کہ ایک دوسرے کی پسند معلوم ہونے پر اچھے بھلے  رشتوں سے بھی انکارکردیا جاتا ہے،ہمارے ملک میں اگر کو ئی لڑکی اور لڑکا  پسند کی شادی کرلیں تو  اُن کے ماں باپ ہی ان  کی جان کے دشمن بن جاتے ہیں اور پھر  پسند کی شادی کرنے والا جوڑا تحفظ کیلئے  عدالت کا دروازہ کھٹکھٹاتا ہے۔

 اسلام میں بھی نکاح کے لئے مرد و عورت دونوں کی رضامندی پہلی اور بنیادی شرط ہے، اگر فریقین رضامند نہ ہوں تو پورا خاندان  بھی راضی ہو تو  نکاح کی شرط پوری نہیں ہوتی۔