سکولوں میں میرٹ کیخلاف بھرتیوں کا انکشاف

سکولوں میں میرٹ کیخلاف بھرتیوں کا انکشاف

( جنید ریاض ) بزدار سرکار میں سفارش عروج پر، لاہور کے 105 سرکاری سکولوں میں میرٹ کیخلاف بھرتیاں کیے جانے کا انکشاف، درجہ چہارم کی بھرتی کیلئے انٹرویو برائے نام لیے جانے لگے، ایجوکیشن اتھارٹی نے سکول سربراہان کو مخصوص افراد کی بھرتی کرنے کا پابند کردیا۔

پی ٹی آئی کے دورِ حکومت میں بھی لاہور کے 105 سرکاری سکولوں میں میرٹ کیخلاف بھرتیاں کیے جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے۔ ذرائع کے مطابق سرکاری سکولوں میں درجہ چہارم کی بھرتی کیلئے ساڑھے تین لاکھ روپے ریٹ مقررکیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق درجہ چہارم کی باقی اسامیوں پر بھرتی کیلئے صوبائی وزراء اور ممبر ان پارلیمنٹ کو کوٹہ دیا گیا۔

ممبر پارلیمنٹ کو اپنے حلقہ میں سے دس، دس کلاس فور کے ملازم بھرتی کرنے کی اجازت دی گئی ہے جس پر ایجوکیشن اتھارٹی نے سکول سربراہان کو مخصوص افراد کوہی بھرتی کرنے کا پابند کردیا ہے۔ درجہ چہارم میں سویپر، نائب قاصد، لیبارٹری اٹنڈنٹ اور دیگر اسامیاں شامل ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ درجہ چہارم کے انٹرویو برائے نام لیے جارہے ہیں جس کی وجہ سے امیدوار بد دل ہوگئے ہیں اور انٹرویو دینے والوں کی تعداد بھی کم پڑگئی ہے۔

دوسری جانب سی ای او ایجوکیشن پرویز اختر نے کہا ہے کہ ایسی خبروں میں کوئی صداقت نہیں۔ انکا کہنا ہے کہ درجہ چہارم کی تمام بھرتیاں میرٹ پر کی جائیں گی۔

ادھر سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب اور پاکستان براڈ کاسٹنگ کارپوریشن کے درمیان اہم معاہدہ طے پاگیا، معاہدہ یونیسف کے تعاون سے طے پایا ہے۔ معاہدے کے تحت کورونا وائرس کے حوالے احتیاطی تدابیر و دیگر تعلیمی موضوعات پر رہنمائی کے حوالے پروگرام نشر کئے جائیں گے۔

ڈاکٹر مراد راس کا کہنا ہے کہ معاہدے کے تحت بچوں اور والدین کی رہنمائی کیلئے مختلف اوقات میں عوامی مفاد کے پیغامات بھی نشر کئے جائیں گے۔ انھوں نے بتایا کہ ریڈیو پاکستان پر پروگرام نشر ہونے سے ملک کے ہر حصے میں اس اہم مسئلے کے حوالے پیغامات پہنچائے جائیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ حالات کے پیش نظر عوام کو کورونا کے خطرات اور اس سے بچاؤ کے حوالے آگاہی فراہم کرنا قلیدی اہمیت کا حامل ہے۔