حکومتی کمیٹی نے گورنر ہاؤس میں تقریبات کرنے پر اعتراضات اُٹھا دیئے

حکومتی کمیٹی نے گورنر ہاؤس میں تقریبات کرنے پر اعتراضات اُٹھا دیئے

(علی رامے) گورنر ہاؤس سے آمدن حاصل کرنے پر بنائی گئی حکومتی کمیٹی کی سفارشات تیار، حکومتی کمیٹی نے گورنر ہاؤس میں کارپوریٹ فنکشن منعقد کرنے پر اعتراضات اٹھا دیئے، گورنر ہاؤس سے آمدن حاصل کرنے کیلئے حکومتی کمیٹی کی سفارشات کابینہ کو ارسال کردی گئیں۔

تحریک انصاف کی حکومت کی جانب سے فیصلہ کیا گیا تھا کہ گورنر ہاؤس لاہور سے اب آمدن حاصل کی جائے گی، جس کیلئے ایک مفصل بزنس پلان گورنر ہاؤس سیکرٹریٹ کی جانب سے تیار کیا گیا، مذکورہ بزنس پلان پر عملدرآمد کیلئے پنجاب حکومت کی جانب سے کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جس کے اجلاس کے بعد اہم سفارشات سامنے آئی ہیں۔

ذرائع نے بتایا ہے کہ کمیٹی کی جانب سے گورنر ہاؤس میں پرائیویٹ تقریبات کرنے پر اعتراضات سامنے آئے ہیں، کمیٹی ممبران نےکہا ہےکہ گورنر ہاؤس تاریخی ورثہ ہے یہاں شادی بیاہ اور دیگر تقریبات نہیں ہونی چاہیئے۔

چیف سیکرٹری کی سربراہی میں بنائی گئی کمیٹی نے کابینہ کو سفارش کردی ہے، اس سے قبل گورنر ہاؤس میں پرائیویٹ تقریب کیلئے 5 لاکھ سے 10 لاکھ روپے فیس مقرر کرنے کی تجویز دی گئی تھی جبکہ دوسری جانب سے گورنر ہاؤس میں داخلے پر عوام سے ٹکٹ وصول کی جائے گا اور فوٹو شوٹ، ٹو گائیڈ کی اجازت ہو گی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اب ان سفارشات پر حتمی منظوری کابینہ دے گی۔

دوسری جانب لاہور ہائیکورٹ کے روکنے کے باوجود حکومتی کمیٹی نے گورنر ہاؤس کی دیواریں گرا کر جنگلے لگانے کی سفارش کر دی، حکومتی کمیٹی نے تمام ممبران کے متفقہ فیصلے کے بعد گورنر ہاؤس کی دیواریں گرانے کی سفارش کی، گورنر ہاؤس کی دیواریں گرا کر جنگلے لگانے پر بھی تمام ممبران متفق ہیں، حکومتی کمیٹی کی سفارشات پر حتمی منطوری کیبنٹ کمیٹی سے لی جائے گی۔

واضح رہے کہ تحریک انصاف نے حکومت میں آ کر گورنر ہاؤس لاہور، گورنر ہاؤس مری اور گورنر ہاؤس کراچی کے مخصوص حصوں کو عوام کے لیے کھولا تھا لیکن گورنر ہاؤس کی دیواروں کو گرانے کا کام شروع ہوا تو لاہور ہائیکورٹ نے خواجہ محسن عباس کی درخواست انتظامیہ کو گورنر ہاؤس کی دیواریں گرانے سے روک دیا تھا۔