نیا پاکستان اور افسر شاہی

نیا پاکستان اور افسر شاہی

(قیصر  کھوکھر) جیسے جیسے مون سون قریب آتا ہے افسر شاہی کی کارکردگی بھی نظر آنا شروع ہو جاتی ہے، ماضی میں برسات اور سیلاب کے دنوں کی حکومت وقت ایڈوانس پلاننگ کرتی تھی اور دریاﺅں اور بڑی نہروں پر خصوصی بند بنائے جاتے تھے، جہاں سے سیلاب کے پانی کو کنٹرول کیا جاتا تھا، ایک وقت تھا جب حکومتیں مون سون کی بارشوں اور سیلاب سے بچاﺅ کی پلاننگ کرتی تھیں اور افسران اور حکمران از خود باہر سڑکوں پر ہوتے تھے، ابھی دور کی بات نہیں کہ جب میاں شہباز شریف خود لکشمی چوک کا دورہ کرتے تھے لیکن اب حالات کچھ یوں ہیں کہ ہلکی سی بارش ہوئی ہے کہ ہماری انتظامیہ اور وزیر اعلیٰ کی کارکردگی کا پول کھل گیا ہے۔

  بیوروکریسی نے برسات، مون سون اور سیلاب سے نمٹنے کےلئے سسٹم ہی نہیں بنایا گیا۔ شہروں اور دیہی علاقوں میں سیلاب ڈیم نہیں بنائے گیا، ماضی میں بارشوں کے پانی کو کنٹرول کرنے کےلئے کنویں بنائے جاتے تھے لیکن اب ایسا نہیں کیا گیا ہے۔ دراصل حکومت نکاسی آب کے منصوبوں میں دلچسپی نہیں رکھتی ، کیونکہ نکاسی آب کے منصوبے زیر زمین ہوتے ہیں اور حکومت صرف ان منصوبوں میں دلچسپی لیتی ہے جس میں انہیں واہ واہ ملے اور زمین کے اوپر نظر آئیں تاکہ وہ الیکشن میں عوام سے ووٹ حاصل کر سکیں۔ حکومت بڑے بڑے ووٹ بینک والے منصوبوں میں ہی دلچسپی رکھتی ہے اور شاید یہی وجہ ہے کہ حکومت سڑکیں اور پل بنانے میں تو مصروف رہتی ہے لیکن سیلاب، برسات اور مون سون سے بچاﺅ کے منصوبوں میں کم ہی خرچ کیا جاتا ہے۔

 پانی وبجلی کے منصوبے جوں کے توں ہیں۔ لوڈشیڈنگ پر قابو نہیں پایا جا سکا ہے اور بارش کا پانی آج بھی لوگوں کے گھروں میں داخل ہو رہا ہے۔ ایک وقت تھا کہ افسر شاہی آنے والی آفات کے مقابلہ کےلئے ایڈوانس تیاری کرتی تھی اور بجٹ میں ان کے لئے خاطرخواہ رقم رکھی جاتی تھی اور ہر شعبہ ہائے کی مناسب اور دو رس پلاننگ کی جاتی تھی۔ لیکن آج کی بیوروکریسی بے حس ہو چکی ہے اور آج نہ تو کوئی پلاننگ ہوتی ہے اور نہ ہی مستقبل کی آفات سے نمٹنے کےلئے کوئی کام ہوتا ہے۔ جب تک افسر شاہی کو کہا نہ جائے وہ کوئی کام کرنے کو تیار نہیں ہوتی ۔ پلاننگ نام کی کوئی چیز نہیں۔ صرف وہی کام ہوتا ہے جس کی کوئی غیر معمولی پیروی کرتا ہے یا جس میں وزیر اعلیٰ یا چیف سیکرٹری دلچسپی رکھتے ہیں۔

 دیہی علاقوں کی حالت ابتر ہے ،وہاں تعلیمی ادارے تعلیم سے فارغ ہیں اور صحت کی سہولتیں نہ ہونے کے برابر ہیں ۔تحصیل ہیڈ کوارٹرز ہسپتال اور ڈی ایچ کیو میں ڈاکٹروں اور دیگر سٹاف کی کمی کاسامنا ہے۔ جس سے مریضوں کا سارا رش صرف اور صرف لاہور کے ہسپتالوں میں پہنچ گیا ہے، جہا ں پر ایک ایک بیڈ پر تین تین مریض ہیں اور ڈاکٹر ان مریضوں کو اپنے نجی کلینکس پر دھکیل کر لے کر جا رہے ہیں۔ اور لاہور ملتان ، فیصل آباد اور راولپنڈی کے علاوہ صوبہ بھر کے تمام ہسپتال ایک طرح سے علاج معالجہ دینے سے فارغ ہیں۔ وسائل چند شہروں تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں۔ جنوبی پنجاب کے مسائل حل کرنے کیلئے بنائے گئے سیکرٹریٹ نے ابھی تک کام شروع نہیں کیا۔

 صوبے کے دور دراز علاقوں سے لوگ اپنے کام کاج کے سلسلہ میں لاہور آتے ہیں کیونکہ ان کے اپنے اضلاع میں ڈی سی اور ڈی پی او دفاتر سے سرے سے ہی اجلاس کے بہانے غائب ہوتے ہیں۔ یہ عام طور پر کہا جاتا ہے کہ ضلع اور تحصیل کے دفاتر عوام کیلئے نو گو ایریاز بن چکے ہیں۔ جس طرح عوام بے چارے سست روی کا شکار ہو کر رہ گئے ہیں، اسی طرح افسر شاہی بھی سست روی کا شکار ہو کر رہ گئی ہے۔ آج کے جدید انٹر نیٹ اور جدید مواصلاتی دور میں افسر شاہی کی نئے سرے سے تربیت کرنے کی ضرورت ہے اور اس سلسلہ میں افسر شاہی کو سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ کی خاص تربیت دی جائے تاکہ وہ جدید دور کے عوامی خدمت کے تقاضوں کو پورا کر سکیں تاکہ عوام کی خدمت کاکوئی بھی موقع مس نہ کیا جا سکے۔

تمام محکموں کی اوورہالنگ کی جائے اور انہیں جدید انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کے دور سے ہم آہنگ کیا جائے تاکہ تمام کام آن لائن ہو سکے۔ سرکاری ریکارڈ کو بھی آن لائن کیا جائے تاکہ ہر کوئی انٹر نیٹ پر یہ ریکارڈ اور تمام معلومات حاصل کر سکے۔ سی ایس ایس کے امتحان کا طریقہ کار بھی تبدیل کیا جائے اور افسران کی بھرتی کے ساتھ ساتھ ان کی ٹریننگ کا پرانا اور فرسودہ سسٹم اب تبدیل کیا جائے اور سول سروس اکیڈمی میں نیا طریقہ کار رائج کیا جائے اور ترقی یافتہ ممالک کی طرز پر افسر شاہی کی تربیت کی جائے تاکہ آج کی افسر شاہی کل کے پاکستان کی پلاننگ کر سکے اور اس طرح نئے پاکستان کی موجودہ حکومت کے ویژن کی تکمیل بھی ہو سکے

قیصر کھوکھر

سینئر رپورٹر