جو آئین کے ساتھ کھلواڑ ہو رہا ہے، وہ ہمارے سامنے ہیں، لاہور ہائیکورٹ

جو آئین کے ساتھ کھلواڑ ہو رہا ہے، وہ ہمارے سامنے ہیں، لاہور ہائیکورٹ
Stay tunned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ملک اشرف: لاہور ہا ئیکورٹ میں پنجاب لوکل گورنمنٹ آرڈینس 2021 کے خلاف درخواست پر سماعت,  جسٹس شاہد جمیل خان نے ریمارکس دیتے ہوئے لوکل گورنمنٹ  آرڈیننس پر عدم اطمینان  کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ  عدالت قانون سازی کا نہیں کہہ سکتی، لیکن جو آئین کے ساتھ کھلواڑ ہو رہا ہے، وہ ہمارے سامنے ہیں۔

چیف جسٹس محمد امیر بھٹی اور جسٹس شاہد جمیل خان پر مشتمل  دو رکنی سپیشل بنچ نے سماعت کی ۔ سیکرٹری بلدیات ڈاکٹر نعیم روف، الیکشن کمیشن کے نمائندوں سمیت دیگر افسران پیش ہوئے۔ درخواست گزار کی جانب سے چوہدری عمران رضا چدھڑ ایڈووکیٹ پیش ہوئے، الیکشن کمیشن کی جانب سے جواب جمع کروا دیا گیا جس میں  الیکشن کمیشن نے پنجاب حکومت سے  لوکل  گورنمنٹ آرڈیننس 2021کے لئے مشاورت نہ کرنے کا شکوہ  کیا۔

جسٹس شاہد جمیل خان نے استفسار کیا کہ کیا نئے بلدیاتی انتخابات کے لئے  الیکشن شیڈول جاری کردیا گیا ہے؟  پنجاب حکومت کے وکیل نے جواب دیا کہ الیکشن شیڈیول ابھی جاری نہیں کیا، جسٹس شاہد جمیل خان نے ریمارکس دئیے کہ لوکل گورنمنٹ آرڈیننس  2021  این کی بعض شقوں سے متصادم ہے۔ آرڈیننس تین ماہ بعد غیر موثر ہو جائے تو  حلقہ بندیوں  کی  کیا اہمیت رہ جائے گی، بنتا تو یہ تھا کہ آپ بلدیاتی اداروں کی مدت ختم ہونے قبل انتخابات کا شیڈول جاری کرتے۔ درخواست گزار وکیل چوہدری عمران رضا چدھڑ ایڈووکیٹ نے کہا الیکشن کمیشن کے جواب میں لکھا ہے کہ حکومت نے ہماری تجویز کے بغیر آرڈیننس پاس کردیا ، جسٹس شاہد جمیل خان نے استفسار کیا کہ الیکشن کا سلسلہ کہاں تک پہنچا ہے ، الیکشن کمیشن کے وکیل نے جواب دیا کہ حکومت کے رولز ابھی تک نہیں ملے مگر حکومت تعاون کررہی ہے۔

چیف جسٹس محمد امیر بھٹی نے دوران سماعت دئیے کہ لوکل گورنمنٹ ارڈینس 2021 کی مدت ختم ہوجاتی ہے تو اس کے بعد حلقہ بندیوں یا الیکشن کی کیا اہمیت رہ جائے گی۔ جسٹس شاہد جمیل خان نے استفسار کیا کب تک بلدیاتی الیکشن کے شیڈول کا اعلان کردیا جائے گا۔۔الیکشن کمیشن کے وکیل نے جواب دیا۔ ایک ہفتہ کے دوران بلدیاتی  الیکشن  کا شیڈول جاری ہوجائے گا، چیف جسٹس محمد امیر بھٹی نے ریمارکس دئیے  کہ حلقہ بندیوں کا پراسس مکمل کیے بغیر کیسے شیڈیول جاری ہوگا، وکیل الیکشن کمیشن نے جواب دیا جی پہلے پراسس مکمل ہوگا تو پھر ہی شیڈیول جاری کریں گے، ہم شیڈیول بنا کر بیٹھے تھے کہ لوکل گورنمنٹ کا نیا آرڈیننس آگیا۔

جسٹس شاہد جمیل خان نے استفسار کیا کہ یہ اارڈیسن کب تک موثر ہوگا، الیکشن کمیشن کے وکیل نے جواب دیا کہ یہ آرڈینس مارچ میں غیر موثر  ہوجائے گا، جسٹس شاہد جمیل خان نے کہا اگر مارچ یہ آرڈیننس غیر موثر ہوگا تو پھر دوبارہ 2019 والا بلدیاتی لاء لاگو ہو جائے گا، آپ اس پر باقاعدہ قانون کیوں نہیں بناتے، آرڈیننس کیوں لے آتے ہیں۔  چیف جسٹس نے پنجاب حکومت کے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا  تیاری آپ کی ہے نہیں اور آرڈیننس لے آئے ہیں۔ عمران رضا چدھڑ ایڈووکیٹ نے کہا سپریم کورٹ نے لوکل گورنمٹ ایکٹ کے سیکشن تین کو کالعدم قرار دیا۔آرڈینس میں ہھر شامل کرلیا گیا۔ جسٹس شاہد جمیل خان نے کہا کیوں نہ بلدیاتی الیکشن کے اقدامات بارے چیف سیکرٹری اور ایڈووکیٹ جنرل کو بلوا کر پوچھ لیں۔

ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے جواب کے لئے مہلت کی استدعا کی۔ دورکنی بنچ نے سماعت 26 جنوری تک ملتوی کرتے ہوئے وفاق اور پنجاب کو جواب جمع کروانے کی مہلت دے دی۔ عدالت نے آئندہ سماعت پر فریقین کو حتمی بحث کے لئے طلب کرلیا۔