سکول داخلے کیلئے حجاب اتارنا لازم، بے بس مسلمانوں کی انتظامیہ سے تکرار

Indian Muslims facing Hijab
کیپشن: Indian Muslims Hijab
سورس: Twitter
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک: کرناٹک میں حجاب تنازع  ابھی تک آن ہے۔۔ تعلیمی اداروں کے باہر  والدین اور اسکول انتظامیہ میں حجاب کے مسئلے پربحث و تکرار جاری ہے۔

رپورٹ کے مطابق چار دن اسکول بند رہنے کے بعد جب سوموار کو دوبارہ کھلے تو کچھ لڑکیاں یونیفارم کے ساتھ حجاب پہن کر آئیں۔ مگر انہیں سکول کے دروازے پر ہی روک دیا گیا۔ اس دوران بعض مقامات پر بچیوں کے والدین اور اسکول ٹیچرز  میں تکرار ہوتی رہی۔ والدین کا موقف تھا کہ بچیاں کلاس رومز میں جاکر حجاب اتار دیں گی۔ تاہم اسکول انتظامیہ نے اس کی اجازت نہیں دی جس پر کئی والدین اپنی بچیوں کو واپس لے گئے تو کئیوں نے حجاب اتروا کربچیوں کو اسکول بھیج دیا۔

طالبہ کے ساتھ ساتھ سکول انتظامیہ کی جانب سے مسلم خواتین ٹیچز کو بھی حجاب سے پہننے سے منع کیا جارہا ہے۔ خاتون اساتذہ کا لباس طالبات کے یونیفارم کا حصہ نہیں ہے لیکن ہندو انتہا پسند اور سکول انتظامیہ انہیں بھی حجاب کے ساتھ سکول میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دے رہی ہے۔

 یاد رہے کہ حجاب کے ایشو کا آغاز کرناٹک کے علاقے اڈپی سے ہوا تھا۔ وہیں جب پری یونیورسٹی کالج کی 6 لڑکیوں کو انسٹی ٹیوٹ کی یونیفارم کے ساتھ حجاب پہن کر کلاس میں نہیں بیٹھنے دیا گیا تو انہوں نے احتجاج شروع کر دیا تھا۔ تقریباً ڈیڑھ ماہ تک وہ ہر روز حجاب پہن کر انسٹی ٹیوٹ آتی رہیں۔  لیکن انہیں کالج داخل نہیں ہونے دیا گیا جس پر رفتہ رفتہ ان کا یہ احتجاج پورے  بھارت میں بحث کی وجہ بن گیا۔ بات جب زیادہ  بڑھی تو کرناٹک حکومت نے 9 فروری کو 10ویں جماعت تک کے تعلیمی اداروں کو بند کرنے کا حکم دیا تھا۔ 

 دوسری طرف کرناٹک کے وزیراعلیٰ بسواراج بومئی نے گڑبڑ پیدا کرنے والوں سے سختی سے نمٹنے کا حکم دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی اڈپی میں تعلیمی اداروں کے ارد گرد دفعہ 144  نافذ کر دی گئی ہے۔ چار سے زائد افراد لوگ جمع نہیں ہوسکیں گے ۔دوسری جانب کرناٹک ہائی کورٹنے مذہبی علامات  جیسے کہ حجاب، زعفرانی دوپٹہ وغیرہ والے لباس کے استعمال پر بھی پابندی لگا دی ہے۔