صوبائی وزیر تعلیم نے بڑا اعلان کر دیا

صوبائی وزیر تعلیم نے بڑا اعلان کر دیا


 سٹی42: صوبائی وزیر تعلیم نے سکولز کی طالبات کے والدین سے ملاقات کی۔ نجی سکولوں کے متعلق مسائل سن کر فوری ریگولیٹری اتھارٹی بنانے کا اعلان کردیا، مراد راس کا کہنا ہے کہ بچوں کو پرائیوٹ سکولوں میں بھاری فیس دے کر پڑھانے کا مطلب ڈیپارٹمںنٹ کی ناکامی ہے۔

قائداعظم اکیڈمی فارایجوکیشنل ڈویلپمنٹ میں وزیر تعلیم نے بچوں کےوالدین سےپرائیوٹ سکولز سے متعلق شکایات سنی اس موقع پرسیکرٹری سکولزعمران سکندر بلوچ بھی موجود تھے۔ والدین کا کہنا تھا کہ نجی سکولزمن مانی فیس وصول کرتے ہیں، ادا نہ کریں تو بچوں کو نظر بند یا نام خارج کردیا جاتا ہے۔

مراد راس نے بتایا کہ پہلی گورنمنٹ کا بنایا ہوا شکایت سیل صرف ڈیپارٹمنٹ کے لوگوں کیلئے تھا، والدین کیلئے نہیں، ہماری حکومت جدید شکایات سیل قائم کرے گی۔ مراد راس نے کہا کہ غیر معیاری تعیلم کی وجہ سے والدین بچوں کو پرائیوٹ سکول میں پڑھانے پرمجبورہیں ان سکولوں کی مانیٹرنگ اورمکمل آڈٹ کیا جائیگا۔ انھوں نے کہا میرے بچے بھی پرائیوٹ سکول میں پڑھ رہے ہیں، 45 ہزار فیس میں وہاں کوئی راکٹ سائنس نہیں پڑھائی جارہی۔

پاک ایوان تعلیم کے سرپرست اعلی قاضی نعیم انجم کا کہنا ہے کہ صرف دس فیصد سکول عوام کیلئے پریشانی کا باعث بن رہے ہیں۔ 90 فیصد سکول معیاری تعلیم فراہم کررہے ہی، ریگولرٹی اتھارٹی کے قیام سے پرائیوٹ سکول مالکان کے تحفظات بھی دور کیے جاسکیں گے۔

حکومت کیجانب معیاری تعلیم کی فراہمی کے دعوے اپنی جگہ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت ترجیحی بنیادوں پر سرکاری سکولوں کا معیار بہتر کرے تاکہ اعلی عہدوں پر فائز سرکاری افسران اپنے بچوں کوسرکاری سکولوں میں پڑھانے کو ترجیح دیں۔