طلبہ کو موٹر سائیکلوں کی نہیں بسیں دینے کی ضرورت ہے، جسٹس شاہد کریم کی ہدایت

طلبہ کو موٹر سائیکلوں کی نہیں بسیں دینے کی ضرورت ہے، جسٹس شاہد کریم کی ہدایت
سورس: google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ملک اشرف:  لاہور ہائیکورٹ کے جج جسٹس شاہد کریم نے ہدایت کی ہے کہ لاہور میں پارکنگ کی جگہ نہیں، لاکھوں موٹر سائیکلیں مزید شامل ہو رہی ہیں، طلبہ کو موٹر سائیکلوں کی نہیں بسیں دینے کی ضرورت ہے، اگر  پالیسی میں شامل کرنے ہی  ہیں تو انہیں  الیکٹرانک موٹر سائیکلیں دے دیں۔

  لاہور ہائیکورٹ میں طلبا کو موٹرسائیکلیں تقسیم کرنے کے کیس کی سماعت ہوئی، جسٹس شاہد کریم نے کیس کی سماعت کی، ڈپٹی اٹارنی جنرل اسد علی باجوہ، ایڈوکیٹ جنرل خالد اسحاق، سیکرٹری ٹرانسپورٹ ڈاکٹر احمد جاوید قاضی عدالت پیش  ہوئے، ممبران ماحولیاتی کمیشن حناء حفیظ اللہ اسحاق، سید کمال حیدر  بھی پیش ہوئے، فاضل جج نے پنجاب حکومت کو موٹر سائکلیوں  کی پالیسی ماحولیاتی عنصر کو مد نظر رکھ کر مرتب کرنے کی ہدایت  کی۔

 جسٹس شاہد کریم نے ایڈوکیٹ جنرل پنجاب سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا حکومتی وزراء کے پاس کہنے کو اور بہت کچھ ہے ، عدالت بارے بیان بازی سے گریز کریں، وزیر اطلاعات نے سموگ کیس میں موٹر سائیکلوں کی تقسیم کے متعلق عدالتی سماعت بارے تبصرہ کیا، انہیں کوئی آئیڈیا نہیں ہے کہ وہ کیا کہہ رہی ہیں، ان کو صرف یہ کہیں کہ وہ عدالت کے بارے میں کوئی تبصرہ نہ کریں۔

 جسٹس شاہد کریم نے دوران سماعت مزید ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ سماعت پر شہر میں لگی لائٹس بارے بات ہوئی تھی ، جتنا خرچہ لائٹس پر کیا گیا اس سے بہتر ماحولیاتی آلودگی پر قابو پانے کے لئے درخت لگائے جاسکتے تھے، ایمپوریم، ایل ڈی اے ایونیو ون اور لبرٹی جاکر دیکھیں وہاں عدالتی حکم پر درخت لگائے گئے ہیں، پی ایچ اے کی گاڑیاں زمینی پانی استعال کرتے ہیں۔

 جسٹس شاہد کریم نے مزید کہا گزشتہ سماعت پر موٹر سائیکلوں کی تقسیم بارے بات ہوئی تھی، لاہور میں پارکنگ کی جگہ نہیں، لاکھوں موٹر سائیکلیں مزید شامل ہو رہی ہیں، طلبہ کو موٹر سائیکلوں کی نہیں بسیں دینے کی ضرورت ہے،  اگر  پالیسی میں شامل کرنے ہی  ہیں تو انہیں  الیکٹرانک موٹر سائیکلیں دے دیں۔

 ایڈوکیٹ جنرل پنجاب خالد اسحاق نے کہا کوئی وزیر  آئندہ عدالتی سماعت کرنے بارے بیان بازی نہیں کرے گا،  میں اس حوالے  سے جواب جمع کروانا چاہتا ہوں جس پر فاضل جج نے ایڈوکیٹ جنرل سے کہا آپ جواب جمع کروادیں، جمعہ کے روز کیس سنوں گا، گورنمنٹ اپنی سٹریجڈی تبدیل کرے، کلائی میٹ  کو  پالیسی میں شامل کرے، محمود بوٹی سمیت دیگر جگہوں پر 150 انڈسٹری کے خلاف کارروائی کروائی گئی,  گورنمنٹ  تعلیمی اداروں میں بسیں دینے کی پالیسی تو بنا سکتی ہے۔

 ایڈوکیٹ جنرل خالد اسحاق نے عدالت سے استدعا کی کہ سیکرٹری ٹرانسپورٹ کو آپ جمعہ کے روز  سن لیں، یہ آجائیں گے، جسٹس شاہد کریم نے جواب میں سیکرٹری ٹرانسپورٹ ڈاکٹر احمد جاوید قاضی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ میں جانتا ہوں ، یہ  اچھے اور قابل افسر ہیں، سموگ کیس کی سماعت جمعہ کو ہو گی۔
 

Ansa Awais

Content Writer