نیوٹرل کو سازش روکنے کا کہا،افسوس کچھ نہیں کیا گیا، عمران خان

سابق وزیراعظم عمران خان
کیپشن: Ex PM Imran Khan
سورس: Google
Stay tunned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک: سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ جو خود کو نیوٹرل کہتے ہیں انہیں سازش روکنے کا کہا لیکن افسوس انہوں نے کچھ نہیں کیا۔الیکشن کی تاریخ نہ دی تو اسلام آباد میں جو سمندر آرہا ہے وہ سب کچھ بہا لے جائے گا۔

مردان میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ ملک پیروں پر کھڑا ہورہا تھا ۔ہمارے خلاف سازشی کی گئی، میر جعفر اور میر صادق اندر پیدا کئے گئے۔جب سازش کا پتہ چلا تو ان لوگوں کے پاس گیا جو سازش روک سکتے تھے۔ میں نے شوکت ترین کو بھی ان کے پاس بھیجا جو خود کو نیوٹرل کہتے ہیں ۔شوکت ترین کو کہا انہیں بتائیں اگر سازش کامیاب ہوئی تو معیشت تباہ ہوجائے گی۔افسوس کی بات ہے سازش روکنے والوں نے کچھ نہیں کیا۔

سابق وزیراعظم نے کہا مجھے پتہ ہے کس کس آدمی نے سازش کی ہے۔ سازش کرنے والے ایک ایک میر جعفر کی شکل میرے دل میں نقش ہوچکی ہے۔

چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا اب بلاول بھٹو امریکا جاکر پیسہ مانگے گا کہ ہماری مدد کریں ورنہ عمران خان واپس آجائے گا۔ امریکیوں کا مجھے پتہ ہے  وہ کہتے ہیں There is no free lunch۔ امریکی جو امداد دیں گے اس کے بدلے ہماری آزادی لیں گے۔۔سپریم کورٹ کے چیف جسٹس اس سازش کی کھلی تحقیقات کرائیں۔موجودہ چیف الیکشن کمشنر کے ہوتے شفاف الیکشن نہیں ہوسکتے۔پوری قوم کو پتہ ہے کہ لوٹے کون ہیں  لیکن چیف الیکشن کمشنر کو نظر نہیں آتے۔ 

عمران خان نے مزید کہا چوروں کے ٹولے کو پیغام ہے۔ مفرور، بزدل ،ڈاکو جو لندن بیٹھا ہے وہ بھی سن لے۔ سزایافتہ مجرم نے نہیں بلکہ اس قوم نے ملک کی قسمت کے فیصلے کرنے ہیں۔ فیصلہ کوئی مفرور نہیں پاکستان کے عوام کریں گے۔قوم سے کہتا ہوں کہ جب کال دوں تو خوف اور غلامی کی تمام زنجیریں توڑ کر میرے ساتھ آنا۔

عمران خان نے مزید کہا کہ امریکا میں ایک چھوٹا سا نوکر ہمارے سفیر کو بلاتا ہے۔ کہتا ہے عمران خان نہ ہٹایا تو پاکستان کو بہت نقصان پہنچے گا اور اگر عمران خان کو ہٹا کر چیری بلاسم کو بٹھایا تو معاف کردیا جائے گا۔ ان سے پوچھتا ہوں کہ تم کون ہو پاکستان کو معاف کرنے والے ؟ پاکستان کی توہین کی گئی ہے۔ 

چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا نوازشریف سے زیادہ بزدل آدمی اپنی زندگی میں نہیں دیکھا، پر وقت باہر بھاگ جاتا ہے۔پاکستان کو امریکی غلاموں، تھری اسٹوجز سے آزاد کرانا ہے۔فضل الرحمان کو ڈیزل کہہ رہا ہوں اسے مولانا نہیں کہہ سکتا۔ڈیزل نے آتے ہی وہ وزارت پکڑی جس میں سب سے زیادہ پیسہ بنے گا۔یہ لوگ اقتدار میں آئے تو ڈاکٹر رضوان پر اتنا دباؤ ڈالا کہ وہ انتقال کرگئے۔ شریف اور  زرداری بڑی بیماری ہیں، ڈیزل سے قوم کی جان چھڑانی ہے۔