سولرسسٹم سے بجلی حاصل کرنیوالوں کیلئے بری خبر

سولرسسٹم سے بجلی حاصل کرنیوالوں کیلئے بری خبر

(شاہد ندیم)وفاقی حکومت نےسولرسسٹم سےسستی بجلی بنا کر قومی گرڈ میں شامل کرنیوالے صارفین پر اضافی بوجھ ڈال دیا ، بجلی کی پیداوار کے لائسنس پر ایک ہزار روپے فی کلو واٹ اضافی فیس عائد کر دی گئی۔

تفصیلات کے مطابق حکومت نے سستی بجلی بنانیوالے صارفین پر لائسنس کی اضافی فیس عائد کر دی ہے، نیپرا نے نیٹ میٹرنگ منصوبےکےتحت بجلی کی پیداواری لائسنس پربھی اضافی فیس عائد کی گئی ہے، نیٹ میٹرنگ منصوبے پر کنکشن لینے کے لئےایک ہزار روپے فی کلو واٹ فیس ادا کرنا ہو گی،اس سےقبل بجلی کے صارفین کو لائسنس کی فیس ادا نہیں کرنا ہوتی تھی،حکومت نے سولر پینلز کی مدد سے بجلی بنانے والوں پر اضافی فیس کا بوجھ ڈالا ہے۔

نیپرا کی جانب سے کم از کم سات کلو واٹ منظور شدہ لوڈ پر لائسنس کی منظوری دی جاتی ہے ، صارفین کو کنسلٹنسی فیس کیساتھ ساتھ ہزاروں روپے کی ادائیگی کرنا ہو گی، سولر سسٹم کی درخواست دینے والی کمپنی صارفین سے لوڈ کے حساب سے فیس ادا کرنا ہو گی، نیپرا نے لیسکو سمیت تمام تقسیم کار کمپنیوں کو مراسلہ بھجوا دیا ہے۔

واضح رہے کہ  وفاقی حکومت کی جانب سےبجلی کی قیمتوں میں اضافہ کردیا گیا تھا،فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مدمیں نیپرا میں سماعت ہوئی جس کے دوران ماہ اکتوبر، نومبر میں پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی ایک روپے چھ پیسے مہنگی  کی گئی، اکتوبر کی فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی انتیس پیسے جبکہ نومبر کی فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مدمیں بجلی ستتر پیسے مہنگی کی گئی جس کی وجہ سے صارفین پر آٹھ ارب چالیس کروڑ روپے کا بوجھ پڑے گا۔