مجرم کو سزا سے زیادہ عرصہ جیل میں رکھنے کا انکشاف

مجرم کو سزا سے زیادہ عرصہ جیل میں رکھنے کا انکشاف

ملک محمد اشرف :جرم کی سزا سے زیادہ ملزم کو جیل حراست میں رکھنے کا معاملہ , ٹیکس فراڈ کیس میں گرفتار ملزم کی درخواست ضمانت پر سماعت , ڈائریکٹر اٹیلی جنس اینڈ انوسیٹی گیشن ایف بی آر اسلام آباد لاہور ہائیکورٹ پیش اور ملزم کی ضمانت منظور ہونے پر کوئی اعتراض نہ ہونے کا بیان دے دیا ۔

لاہور ہائیکورٹ کے جج جسٹس صداقت علی خان نے ملزم آصف علی فیض کی درخواست ضمانت پر سماعت کی،عدالتی حکم پر ڈائریکٹر انٹیلی جینس اینڈ انوسیٹی گیشن اسلام آباد عدالت کے روبرو پیش ہوئے اور موقف پیش کیا کہ اگر عدالت ملزم کی ضمانت منظور کرلے اسے کوئی اعتراض نہیں ہے۔جسٹس صداقت علی خان نے ڈائریکٹر انٹیلی جنس سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر اسے ضمانت منظور ہونے پر کوئی اعتراض نہیں تو آئندہ سماعت پر تحریری طور پر لکھ کر دے ۔

درخواست گزار کی جانب سے سید مصطفی نقوی اور سید مرتضی نقوی ایڈووکیٹ پیش ہوئے۔درخواست گزار وکلا کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا کہ درخواست گزار پر سلیز ٹیکس میں بے ضابطگی کے الزا م میں مقدمات درج ہوئے ،سیلز ٹیکس چوری کی سزا سے زیادہ ملزم جیل میں گزار چکا ہے،جرم کی سزا ساڑھے پانچ  سال جبکہ ملزم چھ سال سے جیل میں ہے،اسی نوعیت کے الزام میں گرفتار دیگر ملزمان کی درخواست ضمانتیں عدالت منظور کر چکی ہے،استدعا ہے کہ عدالت درخواست گزار ملزم کی ضمانت منظور کرتے ہوئے اسے رہا کرنے کا حکم دے۔

دوسری جانب اسسٹنٹ کمشنر انکم ٹیکس کا محکمانہ امتحان میں نقل کروانے پر رزلٹ جاری نہ ہونے کا معاملے  پر   لاہور ہائیکورٹ میں فیڈرل پبلک سروس کمیشن کے چیئرمین کے خلاف توہین عدالت کی درخواست پر سماعت ہوئی، عدالت نے چیئرمین کیپٹن ریٹائرڈ زاہد سعید کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا۔