سال بدل گیا لیکن بیوروکریسی کا رویہ نہ بدلا

سال بدل گیا لیکن بیوروکریسی کا رویہ نہ بدلا

(ملک اشرف) سال بدل گیا لیکن بیورو کریسی کا رویہ نہ بدلا، لاہور ہائیکورٹ میں نئے سال کے دوران بھی سرکاری افسران کے خلاف توہین عدالت کی درخواستوں میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے، عدالتی احکامات کو نظر انداز کرنے والوں میں بڑے چھوٹے سب سرکاری افسران شامل ہیں۔

بیورو کریٹس کی عدالتوں میں پیشیاں، غیر مشروط معافیاں، پھر بھی عدالتی نافرمانیاں جاری ہیں، لاہور ہائیکورٹ میں جنوری کے پہلے بارہ روز میں توہین عدالت کی درخواستوں کی تعداد25 سے تجاوز کر گئی، ہائیکورٹ میں چیف سیکرٹری، آئی جی سمیت دیگر افسران کیخلاف چیف جسٹس سمیت 6 عدالتوں میں توہین عدالت کی درخواستیں زیر سماعت ہیں۔

 چیف سیکرٹری جواد رفیق ملک سمیت دیگر افسران توہین عدالت کی درخواستوں میں کئی مرتبہ عدالتوں میں پیش ہوچکے ہیں، افسران کی جانب سے عدالتی فیصلوں پر بروقت عملدرآمد نہ ہونے سے سائلین پریشان ہیں۔

صدر ہائیکورٹ بار طاہر نصراللہ وڑائچ کہتے ہیں کہ عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کرنیوالے افسران کو سخت سزائیں ملنی چاہئیں، دوچار افسران کو سزائیں مل گئیں تو باقی افسر خود سدھر جائیں گے۔

خیال رہے توہینِ عدالت ، تقریر یا کسی عمل سے کوئی ایسا اقدام کرنا جس سے عدالت کے وقار کو صدمہ پہنچے یا اس کے کسی حکم کی تعمیل نہ کی جائے۔ کسی زیر سماعت مقدمہ پر اظہار خیال کرنا جس سے اس کے فیصلے پر اثرانداز ہونے کا اندیشہ ہو، وہ بھی توہین عدالت ہوگا۔ توہین عدالت کی سماعت براہ راست عدالت عالیہ میں ہوتی ہے اور سرسری سماعت کے بعد عام طور پر مقدمہ کا فیصلہ سنا دیا جاتا ہے۔