عوامی فلاح کا ایک اور منصوبہ کھٹائی میں پڑ گیا

عوامی فلاح کا ایک اور منصوبہ کھٹائی میں پڑ گیا

( حسن علی ) شو رومز پر گاڑیاں رجسٹر کرنے اور نمبر پلیٹ فراہم کرنے والا ڈیلروہیکل رجسٹریشن سسٹم دم توڑنے لگا، محکمہ ایکسائز کی جانب سے نمبر پلیٹس اور رجسٹریشن کارڈ کی فراہمی نہ ہونے کے باعث ڈی وی آر ایس ناکام ہوچکا ہے۔

مسلم لیگ ( ن) کی حکومت نے 2017 میں نئی گاڑی خریدنے والوں کی سہولت کے لیے ڈیلرز وہیکل رجسٹریشن سسٹم متعارف کرایا، جس کے ذریعے نئی گاڑی کی رجسٹریشن باآسانی شوروم پر ہی کی جا رہی تھی اور نمبر پلیٹس بھی ساتھ ہی فراہم کردی جاتی تھی۔ لاہور میں پندرہ سے زائد تھری ایس ڈیلرز اور دیگر ڈیلرز نے یہ سہولت پچیس لاکھ روپے کی سکیورٹی دے کر حاصل کی تھی، لیکن اب یہ ڈی وی آر سسٹم موجودہ حکومت کی عدم توجہ کے باعث دم توڑ رہا ہے۔ اسکی بنیادی وجہ محکمہ ایکسائز کی جانب سے نہ تو گاڑیوں کے رجسٹریشن کارڈ فراہم کیے جا رہے ہیں اور نہ ہی نمبر پلیٹس جاری کی جارہی ہیں۔

انجمن تاجران کار ڈیلرز جیل روڈ کے چیئرمین چودھری ادریس کا کہنا ہے کہ شورومز مالکان نے محکمہ ایکسائز کو سسٹم کے بدلے جو پچیس لاکھ روپے کی سکیورٹی فراہم کی تھی اب وہ واپس مانگی جا رہی ہے کیونکہ محکمہ ایکسائز کی نااہلی کے باعث اب یہ سسٹم سود مند نہیں رہاجبکہ شہر کے معروف کار ڈیلرعبدالباری کا کہنا ہے کہ ڈی وی آر سسٹم کے تحت نئی گاڑی خریدنے والوں کو باآسانی شو روم پر ہی گاڑی کی رجسٹریشن اور نمبر پلیٹس مل جاتی تھی، لیکن اب نہ تو ایکسائز کی جانب سے رجسٹریشن کارڈ فراہم کیے جا رہے ہیں اور نہ ہی نمبر پلیٹس جبکہ محکمہ ایکسائز ابھی بھی نئی رجسٹریشن کے ساتھ نمبر پلیٹ کے بارہ سو روپے وصول کر رہا ہے۔ شہری ایکسائز کی نمبر پلیٹ نہ ملنے کے باعث مارکیٹ سے زائد پیسے دے کر نمبر پلیٹس بنوانے پر مجبور ہیں۔

کار ڈیلرز کا کہنا ہے کہ حکومت محکمہ ایکسائز کے معاملات کو درست کرے۔ نئی گاڑی کی رجسٹریشن اور نمبر پلیٹ بروقت فراہم کی جائے تاکہ ڈی وی آر سسٹم چل سکے۔