عدالت نے رابی پیرزادہ کے جنگلی جانور پالنے کے کیس پر فیصلہ سنا دیا

عدالت نے رابی پیرزادہ کے جنگلی جانور پالنے کے کیس پر فیصلہ سنا دیا

( یاور ذوالفقار ) شوق کا کوئی مول نہیں، یہی وجہ ہے آج کل کے لوگ گھروں میں پالتو جانور رکھنا پسند کرتے ہیں لیکن معروف گلوکارہ رابی پیر زادہ کا یہ شوق اس وقت منفرد ہوا جب انہوں نے پالتو کے بجائے جنگلی جانور پالنا بہتر سمجھا۔

اداکارہ و گلوکارہ رابی پیرزادہ پر الزام ہے کہ انہوں نے گزشتہ 5 سال سے غیر قانونی طور پر گھر میں سانپ، اژدھے اور مگر مچھوں کو رکھا ہوا ہے اور ان کے خلاف جنگلی حیات کے قوانین کی خلاف ورزی کے تحت عدالت میں چارج شیٹ جمع کرائی گئی تھی۔

 جوڈیشل مجسٹریٹ حارث صدیقی نے درخواست پر سماعت کی، گلوکارہ رابی پیرزادہ نے اپنے وکیل بیرسٹر حسن خالد رانجھا کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئیں۔ انہوں نے مقدمہ میں بریت کی درخواست دائر کر رکھی تھی۔ وکیل نے موقف اختیار کیا کہ رابی پیرزادہ کا اس مقدمہ میں کوئی کردار نہیں، وائلڈ لائف نے کارروائی پہلے شروع کی سرچ وارنٹ بعد میں لیے تھے۔

وکیل کا کہنا تھا کہ وائلڈ لائف نے ذاتی رنجش کی بنیاد پر رابی پیرزادہ کو مقدمہ میں ملوث کیا، گلوکارہ کے وکیل نے استدعا کی کہ عدالت مقدمہ سے بری کرنے کا حکم دے۔

دوسری جانب سرکاری وکیل نے بتایا کہ وائلڈ لائف نے سرچ وارنٹ کی تفصیلی رپورٹ عدالت میں جمع کروا رکھی ہے۔ ملزمہ رابی پیرزادہ نے غیر قانونی طور پر مگر مچھ اور سانپ پال رکھے ہیں جو غیر آئینی اقدام ہے۔

سرکاری وکیل نے استدعا کی کہ عدالت ملزمہ کو سزا کا حکم دے۔ عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد گلوکارہ رابی پیر زادہ کو مقدمہ سے بری کرنے کا حکم دے دیا۔