ڈیفنس میں 15 سالہ گھریلو ملازمہ پر بیہمانہ تشدد


(فخر امام ) ڈیفنس کے علاقے میں گھریلو ملازمہ پر تشدد کا ایک اور واقعہ سامنے آ گیا، ظالم مالکن نے تشدد کا نشانہ بنانے کے ساتھ ملازمہ کے سر کے بال بھی مونڈ ڈالے۔

ڈیفنس میں ظالم مالکن نے 15 سالہ ملازمہ پر تشدد کر کے اسکے سر کے بال مونڈ ڈالے، مانگا منڈی کی رہائشی عذرا نامی متاثرہ لڑکی نے بتایا کہ وہ ڈیفنس میں ایک گھر میں گزشتہ 7 ماہ سے بطور گھریلو ملازمہ کام کر رہی ہے، عائشہ نامی مالکن اسے تشدد کا نشانہ بناتی رہی، بھاگنے کی کوشش پر سر کے بال مونڈ کر کمرے میں قید رکھا، والدین سے ملنے کے اسرار پر بھی تشدد کیا گیا۔

متاثرہ بچی کی والدہ کا کہنا تھا کہ اس کا خاوند معذور ہے، سات ماہ قبل غربت کے باعث بچی کو ڈیفنس میں بطور ملازمہ کام کے لیے بھیجا مگر سات ماہ تک نہ تو بچی کو والدین سے ملنے دیا گیا اور نہ ہی کوئی معاوضہ دیا گیا،والدین سے ملنے کیلئے اسرار کرنے پر مالکن عائشہ نے عذرا کے سر کے بال مونڈ دیئے اور کمر پر کٹ لگا کر گھر سے کچھ فاصلے پر ویرانے میں پھینک دیا۔

بچی کے جسم پر تشدد کے نشانات کو واضح دیکھا جا سکتا ہے، دوسری جانب پولیس کا کہنا ہے کہ واقعہ کی درخواست پر بچی کی والدہ سکینہ بی بی کو مانگا منڈی پولیس کے ہمراہ کارروائی کے لیے تھانہ ڈیفنس بھجوایا جا رہا ہے،  بچی کی والدہ نے وزیراعلیٰ پنجاب سے انصاف کی اپیل کی ہے۔

پاکستان میں کمسن گھریلو ملازمین پر تشدد کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔  بعض واقعات میں تو  گھر کے مالکان کے تشدد سے چھوٹے بچے بچیاں جان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ پاکستان میں بچوں کے ساتھ پیش آنے والا یہ پہلا واقعہ نہیں بلکہ اس سے پہلے بھی کئی واقعات رونما ہوچکے ہیں۔ 

لاہور کے علاقے علامہ اقبال ٹاؤن میں 16 برس کی عظمٰی کو ان کی بیٹی کے کھانے میں سے کھانا چکھتے ہوئے پکڑے جانے پر مالکن نے بیہمانہ تشدد کیا جس سے اس کی موت واقع ہوگئی، موت واقع ہونے کے بعد بچی کی لاش کو گندے نالے میں پھینک دیا گیا۔ اسلام آباد میں 10 سالہ بچی طیبہ کو جج کے گھر میں شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا ، فیصل آباد میں سمیہ نامی بچی کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا جو کہ ایک پراپرٹی ڈیلر کے ہاں کام کرتی تھی پراپرٹی ڈیلڑ کی بہنیں اور ماں سمیہ کو چھریوں سے مارتی تھیں۔ لاہور میں ایک مسلم لیگی رہنما نے عطیہ نامی بچی اور طاہر نامی 16 سالہ بچے کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا جس سے طاہر کی موت واقع ہوگئی۔

بہاولپور میں 8 سالہ شمیم جس کو میاں یونس نامی شخص نے تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔10 سالہ ثنا کو کراچی میں مالکان نے تشدد کا نشانہ بنایا ، ملتان شالیمار ٹاؤن میں خدیجہ نامی 10 سالہ بچی کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا بچی نے بھاگ کر جان بچائی ۔لاہور اچھرہ میں 10 سالہ ملازمہ سعدیہ پر میاں بیوی نے تشدد کیا اسی طرح آئے دن بے شمار واقعات سامنے آرہے ہیں جو کہ ایک لمحہ فکریہ بات ہے۔ حکومت پاکستان کو چاہیئے کہ بچوں پر ہونے والے اس پر تشدد واقعات کرنے والوں کیخلاف سخت سے سخت کارروائی کرے۔