سندر کے علاقے میں افسوسناک ٹریفک حادثہ

سندر کے علاقے میں افسوسناک ٹریفک حادثہ

( وقاص احمد )  زندگی ہے تو سب کچھ ہے لیکن تیز رفتاری اور آئے روز ٹریفک حادثات میں اضافے سے ایسے معلوم ہوتا ہے کے شہریوں کو ان کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

بدلتے دور نے جہاں ہمیں بے شمار ایجادات کے حیرت انگیز نظارے دکھائے وہیں ہمیں سفر طے کرنے کے لئے جدید سواریوں جہاز، ٹرین، بس، کار اور موٹر سائیکل وغیرہ کا بھی تحفہ دیا جو کہ یقیناً ہمارے لیے بہت مُفید ہے کہ ان جدید سواریوں کے ذریعے سے ہم دِنوں کے سفر گھنٹوں اور گھنٹوں کے سفر منٹوں میں طے کرلیتے ہیں, مگر افسوس تیز رفتار  ڈرائیونگ کرنے والوں کے سبب آئے دن لوگ حادثات کا شکار ہوتے رہتے ہیں۔

 چند خوش قسمت لوگوں کو چھوڑ کر ان حادثات کا شکار ہونے والے افراد زخمی ہوکر عمر بھر کی معذوری حتی کہ بعض تو موت کے گھاٹ اتر جاتے ہیں, برکی روڈافسوسناک واقعہ پیش آیا جس میں نوجوان جاں بحق ہوگیا۔

پولیس کے مطابق سندر کے قریب ملتان روڈ پر افسوس ناک ٹریفک حادثہ پیش آیا، جہاں تیز رفتار مزدا کی ٹکر سے 6 ماہ کی بچی سمیت ایک ہی خاندان کے 3 افراد جاں بحق ہوگئے جبکہ ایک خاتون زخمی ہوئی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں دو بھائی 35 صدام، 25 شان اور چھ ماہ کی حرم فاطمہ شامل ہیں جبکہ بچی کی والدہ 30 سالہ عائشہ زخمی ہے جسے طبی امداد کے لئے قریبی ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

پولیس نے لاشوں کو ضروری کارروائی کے بعد آبائی گاٶں کوٹ رادا کشن بھجوا دیا ہے۔ پولیس کا کہنا تھا کہ موٹر سائیکل کو ٹکر مارنے والا مزدا ڈرائیور فرار ہوگیا ہے جسے جلد گرفتار کر لیں گے۔

شہر میں اس سے قبل بھی ٹریفک حادثات پیش آتے رہے ہیں۔ جیل روڈ انڈر پاس کے قریب تیز رفتار گاڑی نے موٹرسائیکل کو ٹکر مار دی جس کے نتیجے میں موٹر سائیکل سوار شخص موقع پر ہی جاں بحق ہوگیا تھا۔

دوسری جانب اچھرہ کے علاقے میں موٹرسائیکل سوار نوجوان مزدے کی زد میں آکر جاں بحق ہوگیا۔ پولیس کے مطابق گھوڑے شاہ کا رہائشی نعیم ٹھوکر نیاز بیگ سے مغلپورہ کی طرف جارہا تھا کہ اسی دوران ایف سی انڈر پاس کے قریب موٹرسائیکل رکشہ سے ٹکرا گئی، جس کے نتیجے میں موٹرسائیکل بے قابو ہو کر پیچھے سے آنے والے مزدے کی زد میں آگئی۔

گاڑیوں، بسوں اور رکشوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ اور قوانین پر عمل نہ کرنے کے باعث ٹریفک حادثات پہلے کی نسبت زیادہ ہو رہے ہیں۔

گزشتہ پانچ سال میں ٹریفک حادثات میں زندگی سے محروم ہونے والے افراد کی تعداد دہشت گردی کا ہدف بننے والے افراد سے کئی گنا زیادہ ہے۔ ٹریفک حادثات کی بنیادی وجہ ٹریفک قوانین کی کھلے عام خلاف ورزی ہے۔