کورونا، ڈینگی کے بعد لاہور پر ایک اور خطرناک وائرس کا حملہ

کورونا، ڈینگی کے بعد لاہور پر ایک اور خطرناک وائرس کا حملہ

جیل روڈ (زاہد چودھری، زاہد چودھری، قیصرکھوکھر) کورونا اور ڈینگی کے ساتھ ایک اورعذاب، میو ہسپتال میں کانگو وائرس سے ایک مریض جاں بحق ہوگیا۔

ذرائع کے مطاق میو ہسپتال میں شیخوپورہ کے رہائشی رضا علی کو 5 روز قبل تشویشناک حالت میں داخل کیا گیا، کلینیکل ٹیسٹوں میں کانگو ہیموریجک بخار میں مبتلا ہونے کی تصدیق ہوگئی، وہ پانچ روز تک زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا رہنے کے بعد دم توڑ گیا، محکمہ پرائمری ہیلتھ نے کانگو سے جاں بحق ہونے والے مریض کے کنٹیکٹ میں آنے والے افراد کی ٹریسنگ شروع کر دی ہے، اب تک 15 افراد کے ٹیسٹ کئے جاچکے ہیں۔ 

سیکرٹری پرائمری ہیلتھ کیپٹن(ر) محمدعثمان کا کہنا ہے کہ رضا علی پیشے کے اعتبار سے قصاب تھا، جانوروں سے روابط کی وجہ سے اسے کانگو وائرس لاحق ہوا۔

دوسری جانب شہر میں دینگی کا خطرہ بھی برقرار ہے، 24 گھنٹے کے دوران  ڈینگی کے 28 مشتبہ مریضوں کا انکشاف ہوا ہے جبکہ پنجاب بھر میں ڈینگی کے769 مشتبہ اور ایک کنفرم مریض کی تصدیق کی گئی، جس کا تعلق سیالکوٹ سے ہے۔ترجمان پرائمری ہیلتھ کے مطابق گزشتہ ایک ہفتے کے دوران پنجاب بھر میں 12 ہزار266 مقامات سے لاروا برآمد ہوا ۔

علاوہ ازیں کورونا کیسز کی تعداد میں بتدریج اضافہ، لاہور میں 29 نئے مریض سامنے آگئے، 17 مریض مختلف ہسپتالوں میں زیرعلاج،2  روز کے دوران شہر میں کورونا سے کوئی موت نہیں ہوئی۔

ترجمان پرائمری ہیلتھ کے مطابق شہر میں وبا کے دوران اب تک 49 ہزار120 کیسز سامنے آئے اور 858 اموات ہوچکی، صوبہ بھر میں چوبیس گھنٹے کے دوران 72 نئے کیسز سامنے آئے جبکہ ایک موت کی تصدیق کی گئی، پنجاب میں کورونا کیسزکی مجموعی تعداد 97ہزار533 اور 2 ہزار 214 اموات ہوچکی ہیں، صوبے میں  94 ہزار 258  مریض صحتیاب ہوچکے ہیں.