آج دنیا بھر میں آرتھرائٹس کا عالمی دن منایا جارہا ہے

world arthritis day
world arthritis day

 ویب ڈیسک:  12 اکتوبر کو دنیا بھر میں ’’آرتھرائٹس (گھٹیا) کا عالمی دن‘‘ منایا جاتا ہے، تاکہ اس مرض کی علامات اور علاج معالجے کے لیے عوام،بالخصوص خواتین میں آگہی و شعور کو فروغ دیا جائے

ہر سال 12 اکتوبر کو دنیا بھر میں ’’آرتھرائٹس (گھٹیا) کا عالمی دن‘‘ منایا جاتا ہے، تاکہ اس مرض کی علامات اور علاج معالجے کے لیے عوام،بالخصوص خواتین میں آگہی و شعور کو فروغ دیا جائے،کیوں کہ اس مرض کا زیادہ تر نشانہ خواتین بنتی ہیں۔اس مرض کےبڑھنے کی سب سے اہم وجہ لاعلمی ہوتی ہے، جو آگے چل کر شدت اختیار کر جاتی ہے۔ یہ بیماری جوڑوں کے ساتھ قوت مدافعت پر بھی اثر انداز ہوتی ہے۔ ہاتھ، کلائی ، گھٹنوں اور پیروں کی ہڈیوں میں سوجن، درد کا باعث بنتی ہے اور بعض اوقات انھیں ٹیڑھا بھی کردیتی ہیں۔ عموماً 40سے 60سال کی عمر کی خواتین کو یہ بیماری ہوتی ہے۔ 

ماہرین کے خیال میں اومیگا تھری سپلیمنٹ کا استعمال ہڈیوں کی تکلیف اور اکڑاہٹ کو کافی حد تک کم کرسکتا ہے۔ آرتھرائٹس مرد وخواتین دونوں میں ہوتا ہے جبکہ rheumatoid arthritis عورتوں میں زیادہ ہوتا ہے اوریہ پاکستان میں زیادہ عام ہے۔ ایک اندازے کے مطابق اس وقت پاکستان میں 20 لاکھ آرتھرائٹس کے مریض ہیں جبکہ صرف 35روماٹولوجسٹ ہیں، جو اس مرض کے علاج کے لیے ناکافی ہیں۔

آرتھرائٹس کی کئی اقسام ہیں مگر ریوماٹائیڈ آرتھرائٹس واحد قسم ہے جو ہمارے مدافعتی نظام کی خرابی کے باعث ہوتا ہے۔ ایسے امراض جن میں ہمارا اپنا مدافعتی نظام اپنے ہی جسم کو نقصان پہنچانے لگے انہیں آٹو۔امیون کہتے ہیں۔ ان امراض میں مدافعتی نظام اپنے ہی حصوں، خلیوں اور دیگر چیزوں کو بیرونی جراثیم سمجھ کر ختم کرنے کی کوشش کرنے لگتا ہے۔ ریوماٹائیڈ آرتھرائٹس بھی ایک آٹو۔امیون بیماری ہے جس میں ہمارا اپنا مدافعتی نظام ہی ہاتھوں کی انگلیو، کلائی اور گھٹنوں اور دیگر جوڑوں کو نقصان پہنچانے لگتا ہے جس سے ان میں انفلیمیشن کا عمل شروع ہو جاتا ہے جو درد، اکڑاہت اور سوزش کا باعث بنتا ہے۔ 

گھنٹیا کی بیماری جوڑوں کو مستقل نقصان پہنچا کر انسان کو خاصا لاغر کر سکتی ہے۔ یہ مستقل اور دیرینہ درد کے علاوہ متاثرہ جوڑوں کو مستقل طور پر موڑ بھی سکتی ہے۔ دیگر آٹو۔امیون بیماریوں کی طرح اس میں بھی کچھ عرصہ درد اور دوسری علامات شدت اختیار کر لیتی اور کچھ عرصہ درد کی شدت میں کمی آ جاتی ہے۔ اس بیماری کی علامات میں جوڑوں میں درد، اکڑاہت اور سوزش کے علاوہ ایک مستقل تھکان بھی شامل ہے۔ یہ بیماریاں مخصوص علامات کے ساتھ ساتھ جسمانی علالت جیسا کہ تھکاوٹ، کمزوری، وزن میں کمی کی باعث بھی بنتی ہیں اور اسی کی بنیاد پر ہم ریوماٹائیڈ آرتھرائٹس کو عمر رسیدہ افراد میں پایا جانے والا اوسٹیو۔آرتھرائٹس سے فرق کر سکتے ہیں۔ 

وجوہات میں موٹاپا، تمباکو نوشی، عمر، جینڈر اور جینیاتی عناصر شامل ہیں۔ مثال کے طور پہ عمر رسیدہ افراد اور خواتین میں یہ بیماری ذیادہ پائی جاتی ہے۔ سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول کے مطابق ان خواتین میں یہ بیماری کم پائی جاتی ہے جو اپنے شیرخوار بچوں کو اپنا دودھ پلاتی ہے۔ تشخیص کیلئے خون کے چند ٹیسٹ اور دوسری علامات کی جانچ پڑتال شامل ہے۔ ان امراض کے ماہر ڈاکٹرز کو ریوماٹالوجسٹ کہتے ہیں جو ان امراض کے بارے میں ماہر مشورہ دے سکتے ہیں۔ آجکل اس کے بہت سے علاج آچکے ہیں۔ ضروری ہے کہ ادویات کے ساتھ ساتھ ورزش اور دیگر قدرتی طریقوں  سے بھی فائدہ حاصل کیا جائے۔ 

صحیح علاج کے بغیر اس بیماری سے دل اور موٹاپے جیسی پیچیدگیاں بھی پیدا ہو سکتی ہیں حتی کہ انسان اپنے معمول کے کام سرانجام دینے سے بھی قاصر ہو سکتا ہے۔ اس بیماری سے نمٹنے کیلئے دو بہت اہم چیزیں ہیں۔ 1)  ورزش اور دیگر سرگرمیوں میں شمولیت۔ 2)  سپورٹ گروپ میں شمولیت

یہ گروپ سماجی طور پر بنایا گیا گھنٹیا کے مریضوں کیلئے مخصوص گروپ بھی ہو سکتا ہے اور دیرینہ جوڑوں کے درد کا اکٹھ بھی! اس کے ذریعے ملنے والی روحانی و جذباتی وابستگی بہت فائدہ مند ہو سکتی ہے۔ ایسے لوگوں سے واقفیت جو اسی طرح کے مرض کا شکار ہوں کافی حوصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔